سرکل پانچ میں جی ایچ ایم سی کی کارروائی ، دیگر سرکلس میں بھی جائیدادوں کی نشاندہی
حیدرآباد ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کے بیشتر علاقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے ذریعہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے بجائے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد محصولات کی وصولی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر علاقوں میں مختلف محکمہ جات کی جانب سے جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے متعلق کمشنر بلدیہ و اسپیشل آفیسر مسٹر سومیش کمار متعدد مرتبہ اعلانات کرتے آئے ہیں لیکن ان اعلانات پر عمل آوری کے متعلق عہدیداروں میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی جب کہ جائیداد ٹیکس کی وصولی کے معاملہ میں عہدیدار سخت گیر اقدامات کے ذریعہ یہ باور کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اعلیٰ عہدیداروں کا دباؤ ہے لیکن ترقیاتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کے معاملہ میں اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات مسلسل نظر انداز کیے جارہے ہیں ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے آج سرکل 8 میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 15 جائیدادوں کو مقفل کرتے ہوئے مہر بندکردیا ہے ۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر ( فائر ) مسٹر پی وینکٹ رمنا کی زیر نگرانی کی گئی اس کارروائی کے دوران اے شیلجہ ڈپٹی کمشنر ، مسٹر محمد شاہنواز ، ونئے کپور اور کے ناگیا نے آج تلک روڈ پر واقع 15 تجارتی مراکز کو محصولات کی عدم ادائیگی کی پاداش میں مہر بند کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ بزنس ٹاور کامپلکس میں واقع ان تجارتی مراکز کا جائیداد ٹیکس زائد از 3.35 لاکھ باقی ہے ۔ علاوہ ازیں اس کامپلکس میں مزید 80 ایسی ملگیات موجود ہیں جن کے محصولات طویل عرصہ سے ادا شدنی ہے ۔ اے شلیجہ کے بموجب سرکل 8 میں ایسے 231 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ طویل مدت سے بلدیہ کو جائیداد ٹیکس ادا نہیں کئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ فوری طور پر جائیداد ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں دیگر جائیداد مالکین کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کی جائے گی ۔۔