نئی دہلی ۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے حکومت کی اس تجویز پر شدید تنقید کی کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں اتفاق کریں تو تبدیلی مذہب پر امتناع کیلئے قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اس تجویز کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اس پر امتناع مناسب نہیں ہوگا۔ وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا تھا کہ این ڈی اے حکومت مذہبی تبدیلی کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں تفصیلی مباحث کیلئے تیار ہے اور اگر تمام جماعتیں اتفاق کریں تو تبدیلی مذہب پر امتناع کیلئے قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کیا وینکیا نائیڈو کسی کو اپنی مرضی سے دوسرا مذہب اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں؟ یہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کا انتخاب کسی شخص کا انفرادی اور بنیادی حق ہے لیکن کسی کو تبدیلی مذہب کیلئے لالچ دینا یا فائدہ کی پیشکش کرنا ایک جرم ہے اور ایسا ہونا ہی چاہئے۔ کانگریس لیڈر نے سماج وادی پارٹی زیرقیادت اترپردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ آگرہ میں جبری مذہبی تبدیلی میں ملوث رہنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اقتدار میں ہے،
اسے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے جبری مذہبی تبدیلی میں ملوث رہنے والوں کو گرفتار کرنا چاہئے۔ ہم سب اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ اکھیلیش یادو جی کے پاس کتنا حوصلہ ہے۔ وہ کتنے افراد کو گرفتار کرتے ہیں اور کس حد تک سختی اختیار کی جاتی ہے۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے پروگرامس منعقد کرتے ہوئے سیاسی کشیدگی پھیلانا آر ایس ایس اور بی جے پی کے سیاسی لائحہ عمل کا حصہ ہے۔ ایسا کرنے سے انہیں سیاسی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی کا ہمیشہ یہی سیاسی ایجنڈہ رہا ہیکہ جب تک عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم نہ کیا جائے انہیں مقبولیت حاصل نہیں ہوگی۔ اگر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ بی جے پی نے جب بھی فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلائی اسے سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ 1984ء میں بی جے پی کے صرف دو ارکان پارلیمنٹ تھے لیکن بابری مسجد کی شہادت اور رام مندر مسئلہ کے بعد نشستوں کی تعداد میں 10 گنا اضافہ ہوا۔ یہی ان کا بنیادی سیاسی لائحہ عمل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی نوعیت کے پروگرامس دیگر ریاستوں میں بھی منعقد کئے جارہے ہیں۔