حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : چارمینار کے دامن میں موجود مسجد چوک کو ایک تاریخی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو کہ فن تعمیر کا ایک شاہکار بھی ہے ۔ اس تاریخی مسجد کو 1817 میں خواجہ عبداللہ خان نے اپنے ذاتی صرفہ سے تعمیر کروایا تھا جو کہ مسجد چوک یا چوک کی مسجد کے نام سے کافی مشہور ہے نیز یہاں مبارک راتوں جیسے شب معراج ، شب برات اور رمضان المبارک کی طاق راتوں میں بیانات کو خاص اہمیت حاصل رہتی ہے نیز دونوں شہروں کے دوردراز کے علاقوں سے اس مسجد میں پر نور بیانات کی سماعت کے لیے ہر عام و خاص خصوصا نوجوان پہنچتے ہیں اور اب جب کہ رواں ہفتہ شب معراج بھی ہے لیکن مسجد کے مصلیان یہاں بلدیہ کے کاموں میں سست روی اور باب الداخلہ اور مسجد کے اطراف بڑے گڑھے کھود کر راستوں میں بڑا خلل ڈال چکے ہیں اس سے کافی پریشان ہیں ۔ مصلیان مسجد نے بلدیہ کی سست روی اور مسجد کے راستوں میں موجود رکاوٹوں کے متعلق مطلع کیا اور جب یہاں کا معائنہ کیا گیا تو ایسا لگتا ہے کہ بلدیہ کا یہ کام کئی دنوں سے بند پڑا ہے ۔ مسجد کے راستوں پر بڑے اور گہرے گڑھے کھود کر انہیں کھلا چھوڑ دیا گیا اور کہیں ان میں بڑے پائپ ڈالے گئے ہیں جس سے راستے کی حالت اتنی بری ہوچکی ہے کہ یہاں گاڑی کا گذرنا تو درکنار پیدل بھی چلنا دشوار ہوچکا ہے ۔ مسجد کے اطراف 70 ملگیات موجود ہیں اور ان میں موجود تاجروں نے کہا ہے کہ گذشتہ دیڑھ 2 ماہ سے کاروبار مکمل ٹھپ ہوچکا ہے ۔ بلدیہ کی سست روی اور مقرر وقت پر کام کی عدم تکمیل نے نہ صرف مصلیان مسجد اور اطراف کے تاجروں کے لیے مشکلات و مسائل پیدا کردئیے ہیں بلکہ یہ کھلے گڑھے کسی بھی وقت کسی شہری کو موت کی نیند بھی سلا سکتے ہیں ۔ آخر بلدیہ کسی حادثے کا انتظار تو نہیں کررہا ہے ؟ یہ سبھی کو یاد ہے کہ بلال نگر کالے پتھر کے ایک کھلے نالے میں ایک بچہ گر کر فوت ہوگیا تھا جس کے چند دن بعد ہی ایک اور بچہ اسی نالے میں گر کر زخمی ہوگیا تھا ۔ اور ان حادثات کے بعد بلدیہ کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا ۔ بلدیہ کی غفلت اور مقامی قائدین کی غیر ذمہ داری کے متعلق عوام میں ایک برہمی دیکھی جارہی ہے ۔ ضروری ہے کہ اب جب کہ رجب شروع ہوچکا ہے شعبان اور پھر رمضان کی آمد آمد ہے لہذا چوک کی مسجد کے سامنے بلدیہ کے اس کام کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہئے اور تو اور جمعہ کو اس تاریخی مسجد میں تقریبا 3 ہزار افراد نماز کا فریضہ ادا کرتے ہیں ان مصلیان کو بھی جلد از جلد راحت پہنچنا چاہئے ۔۔