تاج محل کو تنازعہ میں نہ گھسیٹنے بی جے پی کو مشورہ

وزیراعظم کی ستائش کے معنی بی جے پی میں شمولیت نہیں:امر سنگھ
جئے پور۔ 8 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق ایم پی مسٹر امر سنگھ جنہوں نے حال ہی میں بی جے پی لیڈروں سے ملاقات اور وزیراعظم نریندر مودی کی ستائش کی تھی۔ قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ انہوں نے بی جے پی میں شمولیت یا اس خصوص میں دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ جئے پور میں شخصی دورہ پر آتے ہوئے مسٹر امر سنگھ نے بتایا۔ انہوں نے بی جے پی کی رکنیت حاصل نہیں کی ہے اور نہ ہی پارٹی میں شمولیت کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں، نہ ہی آئندہ 10 سال تک کسی سیاسی عہدہ کے خواہش رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایک آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں ۔ تاہم امر سنگھ نے کہا کہ انہیں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت میں کوئی خامی نظر نہیں آرہی ہے۔ نریندر مودی برسر اقتدار آنے کے بعد سے افراطِ زر پر قابو پالیا گیا ۔ پٹرول اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی ۔ کلین انڈیا مہم ، جموں و کشمیر انتخابات میں رائے دہی کے تناسب میں اضافہ آسٹریلیا میں کالا دھن پر مودی کی تقاریر ملک میں نمایاں تبدیل کا مظہر ہے۔ بلیک منی کے مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کے خلاف کانگریس کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کے انتخابی وعدوں پر اپوزیشن ارکان غیر ضروری شور و غوغہ کر رہے ہیں جبکہ تنقید برائے تعمیر ہونی چاہئے۔ بیرونی ممالک سے کالا دھن رکھنے والوں کو بے نقاب کرتے ہی نریندر مودی حکومت کی تاخیر پر انہوں نے کہا کہ استقاط حمل کے بعد بچہ کی پید ائش کیلئے 9 ماہ لگ جاتے ہیں تو اس میں جلد بازی کیوں کی جارہی ہے ۔ بی جے پی کے اس ادعا پر کہ تاج محل ایک تاریخی مندر ہے، امر سنگھ نے کہا کہ تاج محل ہندوستان کی عظمت ہے اور اسے کسی تنازعہ میں کھینچا نہ جائے اور دنیا بھر میں ایک آثار قدیمہ کی حامل عمارت اور ہندوستان کی شناخت ہے۔ مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج پر سابق سماج وادی پارٹی لیڈر نے کہا کہ وہ اس طرح کے ریمارکس کی ستائش نہیں کرسکتے چونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کی مذمت کردی ہے لہذا یہ معاملہ ختم کردینا چاہئے۔