حیدرآباد 21 مارچ ( پی ٹی آئی ) بی جے پی ‘ تلگودیشم پارٹی ‘ لوک ستہ اور حال ہی میں تشکیل شدہ جنا سینا پارٹی ( جو تلگو فلم اسٹار پون کلیان نے قائم کی ہے ) امکان ہے کہ ریاست میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے ایک وسیع اتحاد کرینگے ۔ یہ چاروں جماعتیں انتخابات کا سامنا کرنے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتی ہیں۔ بی جے پی اور تلگودیشم پارٹی پہلے ہی انتخابی مفاہمت کیلئے بات چیت شروع کرچکے ہیں جبکہ بی جے پی کو پون کلیان کی جانب سے وزارت عظمی امیدوار کے طور پر نریندر مودی کی تائید سے زبردست تقویت حاصل ہونے کی امید ہے ۔ پون کلیان نے ‘ جو مرکزی وزیر و کانگریس لیڈر چرنجیوی کے بھائی ہیں ‘ آج چیف منسٹر گجرات نریندر مودی سے احمد آباد میں ملاقات کی ۔ انہوں نے ملاقات کے بعد کہا کہ آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنیں۔ بیوروکریٹ سے سیاستداں بننے والے جئے پرکاش نارائن کی لوک ستہ پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کانگریس کے سوا دوسری جماعتوں کے ساتھ اپنے بنیادی مسائل پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر حکمت عملی اتحاد اور نشستوں کی تقسیم کیلئے تیار ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جئے پرکاش نارائن نے ان کی پارٹی کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کا امکان مسترد کردیا ہے تاہم انہوں نے یہ کہا ہے کہ بی جے پی سے ان کی پارٹی کا اتحاد ہوسکتاہے اور یہ پارٹی اہل ہے ۔ حالانکہ بی جے پی اور تلگودیشم پارٹی کے مابین نشستوں کی تقسیم پر بات چیت تعطل کا شکار ہونے کی اطلاع ہے لیکن دونوں ہی جماعتوں کو امید ہے کہ آئندہ دنوں میں اس مسئلہ پر اتفاق رائے ہوجائے گا ۔
ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ تلگودیشم کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان و رکن پارلیمنٹ پرکاش جاوڈیکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانگریس کی مخالفت کرنے والی جماعتوں میں مفاہمت کی کوئی راہ نکل آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کانگریس ہٹاؤ دیش بچاؤ کا نعرہ دیتے ہیں اور اس کو بہتر مانتے ہیں وہ ان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ایسا کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یکا و تنہا کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ مختلف کوششیں نہیں ہونی چاہئیں اور ہم اس سلسلہ میں دوسری جماعتوں کے ساتھ اس سلسلہ میں بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اب وقت بہت کم بچا ہے ۔ غیر مختتام مباحث اور طویل مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ایسے میں انہیں امید ہے کہ قومی مفاد کے تحت یہ جماعتیں اور دوسری طاقتیں جو چاہتی ہیں کہ کانگریس کو ختم کرتے ہوئے ملک کو بچانا چاہئے وقت کی اہمیت کو سمجھیں گی اور بعض رکاوٹ بننے والے امور کو جلد حل کرلیں گی تاکہ ہم متحدہ طور پر انتخابات میں مقابلہ کرسکیں۔ جاودیکر نے آج تلنگانہ بی جے پی قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ بی جے پی کے تلنگانہ قائدین ابتداء میں کسی انتخابی مفاہمت کے خلاف تھے لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ انہیں تلنگانہ علاقہ میں مقابلہ کیلئے زیادہ نشستیں مل جائیں ۔ تلگودیشم و بی جے پی قائدین کے مابین گذشتہ دنوں سے انتخابی مفاہمت کے سلسلہ میں بات چیت چل رہی تھی تاہم ابھی ان دونوں جماعتوں نے کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا ہے جس پر جاوڈیکر بالواسطہ طور پر ناراض دکھائی دے رہے تھے ۔