کولکتہ 24 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی نے آج خبردار کیا کہ وہ بی جے پی کے خلاف جدوجہد کو دہلی تک لیجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ شردھا اسکام میں ان کی پارٹی کا نام گھسیٹنے کے خلاف سیاسی طور پر جدوجہد کرینگی ۔ انہوں نے کالا دھن واپس لانے کے مسئلہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ وہ بے جے پی کا نقاب نکال پھینکیں گی ۔ ممتابنرجی نے شردھا اسکام کے سلسلہ میں عوام کو ہراسانی کے خلاف ایک ریلی کے اختتام پر کہا کہ ہم نے بہت برداشت کرلیا ہے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ہمارے تعلق سے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے تاہم بنگال کی سرزمین اتنی مضبوط ہے کہ جو بیج یہاں بوئے جائیں گے ان کے درخت دہلی میں اگیں گے ۔ ترنمول کے راجیہ سبھا ایم پی سرنجئے بوس کو سی بی آئی نے شردھا کیس کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام طور پر سڑکیں بلاک کرتے ہوئے جلسے منعقد نہیں کرتیں لیکن ضرورت پڑنے پر ایسا کرنے پر مجبور ہوجائیں گی اور ایسا دہلی میں بھی کرینگی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ مرکز نے کس کے ساتھ کیا کیا ہے لیکن اگر بنگال کے ساتھ کچھ غلط کیا جائے تو بنگال سے بلند صدائے احتجاج کسی کی نہیں ہوگی ۔ ہم آپ کو سیاسی اور جمہوری طور پر جواب دینگے ۔ کالا دھن واپس لانے کے مسئلہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ کالا دھن کہاں ہے ؟ ۔ حکومت اس کو واپس لائے یا پھر ہم آپ کو سیاہ کرسیوں پر بٹھا کر آپ کا نقاب نکال پھینکیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی انتخابی مہم پر ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے ۔ یہ سب رقم کہاں سے آئی ہے ؟ ۔ قبل ازیں شمالی 24 پرگنہ ضلع میں بونگائی کے مقام پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔ انہیں سازش کرنے دیجئے میں انہیں بتاؤں گی کہ کوئی بھی سازش ہمیں ترقیاتی کام کرنے سے نہیں روک سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ سازش کرتے ہوئے وہ کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ ہم عوام کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا کہ ایک دو بیرونی افراد کی وجہ سے ساری پارٹی یا حکومت کو کیوں بدنام کیا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر ممتابنرجی نے کہا کہ اقتدار مل کر انہیں صرف چھ ماہ ہوا ہے اور زیادہ تر وقت بیرونی ملکوں میں گذار رہے ہیں۔ کیا وہ ملک کو فراموش کرچکے ہیں ؟ ۔ ہندوستان صرف خود لی ہوئی تصاویر میں نظر آر ہا ہے ۔ وہ ملک کو بیرونی ممالک میں فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلویز ‘ انشورنس اور ریٹیل مارکٹ کو صد فیصد سرمایہ کے ساتھ فروخت کیا جارہا ہے حد تو یہ ہوگئی کہ انسانوں ‘ پنشن اور دفاع کے شعبہ کو بھی فروخت کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کو فروخت کرنے پر نوبل انعام ملے گا تاہم وہ ایسا کس کو خوش کرنے کیلئے کر رہے ہیں وہ نہیں سمجھ پارہی ہیں۔ مودی کے خلاف گجرات فسادات کیلئے الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے گجرات میں بہت خون لے لیا ہے لیکن بنگال کو چھوڑ دیجئے ۔ آپ نے بہت فسادات کروائے ہیں لیکن ہم فسادات نہیں چاہتے ۔ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ ممتا نے الزام عائد کیا کہ جب کبھی انتخابات آتے ہیں بنگلہ دیش کا مسئلہ اٹھ جاتا ہے ۔ یہ مرکز کا مسئلہ ہے ۔ بنگلہ دیشی در اندازوں کا مسئلہ مرکز کا ہے اور یہ سب کچھ مرکز کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ ان کی حکومت بنگلہ دیشی در اندازوں کے تعلق سے نرم رویہ اختیار کر رہی ہے ۔ یہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ سرحدات کی حفاظت کی جائے ۔ سرحدات بی ایس ایف ‘ مرکزی پولیس ‘ سیما سرکشا بل ‘ را ‘ فوج اور آئی ٹی بی پی کے ہاتھ میں ہے ۔ ریاستی پولیس سرحدات کی حفاظت نہیں کرتی ۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا کہ سرحدات کی فینسنگ کیوں نہیں کی گئی ۔ ہم چاہتے ہیںکہ اسمگلنگ رک جائے لیکن جب مرکزی عملہ رشوتیں لیتے ہوئے ایسا کرتا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کھلے میں کھڑے ہیں۔ اگر کسی کو خوشی ہوسکتی ہے ہمیں گرفتار کرلیا جائے ۔ جیلوں میں بھیج دیا جائے ۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام عائدکیا کہ اور کہا کہ حکومت اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے جس پر وہ بیٹھی ہے ۔ ایسا کرنا نہ عوام کیلئے اچھا ہے نا ملک کیلئے نہ خود حکومت کیلئے ۔