نئی دہلی ۔ 18 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی خاتون ورکرس نے آج مرکزی وزیر نہال چند میگھوال کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ہیڈکوارٹرس کے روبرو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جن کا نام عصمت ریزی کے ایک معاملہ میں ملوث بتایا گیا ہے ۔ آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر شوبھا اوڈا کی قیادت میں احتجاج منظم کیا گیا ۔ خواتین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام رکھے تھے جس میں نہال چند میگھوال سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ احتجاجیوں نے پولیس حصار کو توڑنے کی کوشش بھی کی اور نہال چند کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔ مودی کابینہ میں نہال چند میگھوال کے پاس کیمیکلز اور فرٹیلائیزرس وزارت کا قلمدان ہے۔ یاد رہے کہ 2011 ء میں ایک خاتون کی جانب سے پولیس میں درج کروائی گئی
ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ اس کا شوہر اسے ہمیشہ نشیلی ادویات کے ذریعہ مدہوش کیا کرتا تھا اور بعد ا زاں اپنے دوستوں کو اپنی ہی بیوی کی عصمت ریزی کرنے کی اجازت دیتا تھا ۔ جس میں نہال چند میگھوال بھی شامل تھے۔ 2012 ء میں راجستھان پولیس نے یہ کہہ کر کیس فائل بند کردی تھی کہ وضع کئے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے۔ خاتون نے بھی ہمت نہیں ہاری ۔ وہ ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع ہوئی جہاں ایک بار پھر کیس خارج کردیا گیا لیکن اس نے دوبارہ درخواست داخل کی جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے نہال چند میگھوال اور دیگر 17 کو گزشتہ ہفتہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 اگست تک نوٹس کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔