ریاستی وزیر داخلہ کا عوام کو مشورہ، آصفہ کے مجرمین کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ
این نرسمہا ریڈی کی نمائندہ سیاست سے خصوصی بات چیت
حیدرآباد۔/20اپریل، ( سیاست نیوز ) مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے مختلف بلند بانگ دعوؤں کی طرح ’’ بیٹی بچاؤ ۔بیٹی پڑھاؤ ‘‘ کا نعرہ دیا تھا اور وسیع پیمانے پر اس کی تشہیر بھی کی گئی مگر عملی طور پر آج پورے ملک میں نہ بیٹیاں محفوظ ہیں اور نہ خواتین کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب ملک کے کسی نہ کسی گوشہ سے صنف نازک کی عصمتوںکو تار تار کئے جانے انہیں بے رحمی کے ساتھ وحشیانہ طریقہ سے موت کے گھاٹ اُتار دیئے جانے کی خبریں موصول نہ ہوتی ہوں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صرف بڑی بڑی باتیں اور بڑے بڑے دعوے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر عملی طور پر وہ سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ جیسا کہ ان دنوں ملک بھر میں نابالغ لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بناکر ان کی عزت لوٹ کر موت کے گھاٹ اُتاردینے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ ذرا سوچیئے کہ ماں باپ پر اس وقت کیا گذرتی ہوگی جب ان کی لخت جگر کے ساتھ مسلسل اس کی عصمت ریزی کرکے جنگل میں پھینک دیا گیا ہو۔ کٹھوا حادثہ کے بعد بی جے پی زیر اقتدار ریاست گجرات میں بھی ایک 11 سال کی معصوم بچی کو اغوا کرنے کے بعد جانوروں کی طرح عزت لوٹنے کے بعد بلیڈ سے اس کے جسم کے نازک حصوں پر ضربات لگاکر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے قبل یو پی کے اناؤ میں بی جے پی ایم ایل اے نے ایک 18سالہ لڑکی کی عصمت سے کھلواڑ کیا اور اس کے خلاف آواز اٹھانے پر اس کے والد کو ہلاک کردیا گیا۔ اس پس منظر میں ریاستی وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے ان کی رہائش گاہ پر نمائندہ سیاست شاہنواز بیگ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر، یوپی اور گجرات کے علاقوں میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی عصمت ریزی اور قتل میں ملوث اشرار کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکاکر ایسی عبرتناک موت دی جائے جسے دیکھ کر کسی کی بھی گندی نظر دوبارہ لڑکیوں پر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو چاہیئے کہ اس معاملے میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے اور پھر ان خاطیوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے انکاؤنٹر کردیا جائے۔ واضح رہے کہ سال 2011 میں ضلع ورنگل کے حسن پرتی میں کٹس انجینئرس کالج کی دو لڑکیوں پر تیزاب پھینک کر ماردینے کے واقعہ میں ملوث تین نوجوانوں کو ضلع ایس پی ورنگل وی سی سرجنار کی خصوصی ٹیم نے انکاؤنٹر میں مار گرایا تھا جو ایک تاریخی مثال بن گیا اب اس واقعہ کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ نے کھٹوا، اناؤ اور سورت واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت لڑکیوں اور خواتین کی حفاظت میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی والوں کی حیوانیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ معصوم اور انتہائی کمسن بچیوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مذکورہ خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بی جے پی والوں سے بچائیں۔ جب وہ محفوظ رہے گی تو پڑھے گی۔