بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں کی ذہنی دہشت گردی

حیدرآباد /20 اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں پر ذہنی دہشت گردی پھیلاکر ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد ہندوتوا طاقتیں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے مسلمانوں کے جذبات مجروح اور ملک کی جمہوریت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گجرات میں مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے امن و امان کی بات کر رہے ہیں اور فسادات کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ بھگوت ملک کے سارے عوام کو ہندو قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے ایک قائد کو ملک کے دستور کو تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسی طرح کوئی مسلم پرسنل لاء کی مخالفت کر رہا ہے اور کوئی مسئلہ کشمیر کو چھیڑکر مسلمانوں میں غیر یقینی صورت حال پیدا کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوتوا طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑاکر اپنے ذاتی اور سیاسی اغراض کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے دستور کو انگریزوں کی دین قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ کانگریس پارٹی نے دستور کی تیاری میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو مذہب کے نام پر جس طرح لڑایا تھا، اب وہی کام بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے انجام دینا چاہتی ہیں، تاہم کانگریس پارٹی کبھی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔