حیدرآباد۔19۔نومبر (سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے بینک قرضوں سے مربوط سبسیڈی کی اجرائی کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں سے اجازت طلب کی گئی ہے ۔ دونوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 36 کروڑ روپئے بطور سبسیڈی منظور کئے گئے۔ تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں حکومتوں نے متعلقہ اکاؤنٹ کو منجمد کردیا تھا۔ تلنگانہ میں 18 کروڑ 60 لاکھ روپئے بطور سبسیڈی منظور کئے گئے جبکہ آندھراپردیش میں 17 کروڑ 62 لاکھ روپئے کی منظوری دی گئی۔ آندھراپردیش حکومت کے پاس مکمل رقم جاری کرنے کیلئے بجٹ موجود ہے جبکہ تلنگانہ میں صرف 8 کروڑ روپئے دستیاب ہیں۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے دونوں حکومتوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سبسیڈی کی اجرائی کی اجازت طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں حکومتیں اس اسکیم کیلئے قواعد میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تاہم موجودہ منظورہ درخواستوں کیلئے سبسیڈی اجرائی کی اجازت دیدی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی نے اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ سبسیڈی کی اجرائی سے 3779 امیدواروں کو فائدہ ہوگا جن کے لئے کارپوریشن نے سبسیڈی منظور کی۔ تلنگانہ میں سبسیڈی کی اجرائی کیلئے 8 کروڑ روپئے موجود ہیں جبکہ مزید 10 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کرتے ہوئے نہ صرف سبسیڈی کی اجرائی کو یقینی بنائیں گے بلکہ مزید 10 کروڑ روپئے کی ضرورت کی تکمیل کی جائے گی ۔ متحدہ ریاست میں اس اسکیم کے تحت جملہ 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے، جس میں 75 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش کے حصہ میں 43 کروڑ 50 لاکھ روپئے آئے ہیں جبکہ تلنگانہ کو 31 کروڑ 50 لاکھ الاٹ کئے گئے۔ تلنگانہ میں فینانس کارپوریشن نے ابھی تک 5667 امیدواروں میں 23 کروڑ 86 لاکھ 40 ہزار روپئے بطور سبسیڈی جاری کئے ہیں جبکہ 3779 امیدواروں میں 18 کروڑ 60 لاکھ 84 ہزار کی اجرائی باقی ہے۔ آندھراپردیش میں ابھی تک 6054 امیدواروں میں 22 کروڑ 97 لاکھ 53 ہزار جاری کئے گئے جبکہ 3644 امیدواروں میں 17 کروڑ 62 لاکھ 55 ہزار کی اجرائی باقی ہے ۔ آندھراپردیش کے اکاؤنٹ میں سبسیڈی کے سلسلہ میں 22 کروڑ روپئے موجود ہے۔ اگر حکومت سبسیڈی کی اجرائی کی اجازت دیں تو اس مد کے تحت 5 کروڑ روپئے کی بچت ہوگی۔