قرض حاصل کرنا جرم نہیں، ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے ان کے فرزند پر کانگریس رکن اسمبلی ڈی کے ارونا کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرشنا راؤ نے کہا کہ بینکوں کو دھوکہ دہی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ بینکوں سے قرض حاصل کرنا کوئی نئی بات نہیں اور تجارتی اغراض کیلئے قرض حاصل کرنے میں کیا غلطی ہے۔ کانگریس قائدین سیاسی مقصد براری کیلئے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے امیج متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ کرشنا راؤ نے کہا کہ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل ایل آئی سی سے دو کروڑ کا قرض حاصل کیا تھا جو ادا کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پروڈینشل بینک سے حاصل کردہ قرض بھی مکمل ادا کردیا اور بینک نے مکمل ادائیگی کا سرٹیفکٹ بھی جاری کیا ہے۔کانگریس قائدین کی جانب سے حقائق جانے بغیر الزام تراشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی آئی کو ابھی تک 31 کروڑ روپئے سے زیادہ ادا کردیئے گئے ہیں لیکن کانگریس قائدین نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک سے قرض حاصل کیا ہے لیکن کوئی جرم نہیں کیا۔ انہوں نے نیرو مودی سے تقابل کرنے کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ کانگریس قائدین حقائق جانے بغیر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ کرشنا راؤ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بینک کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سود کی رقم میں کمی کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے سی بی آئی کی جانب سے نوٹس دیئے جانے کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ فرضی نوٹس تیار کرتے ہوئے کانگریس قائدین تشہیر کر رہے ہیں۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ ان کے فرزند کی کمپنی خسارہ میں چل رہی ہے، لہذا وہ قرض سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ بینک سے حاصل کردہ قرض مکمل ادا کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بینک کو قرض کی تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں نقصان انہی کا ہوگا لیکن کانگریس قائدین فکر مند کیوں ہیں۔ کرشنا راؤ نے کہاکہ کانگریس قائدین انہیں اس بات کا درس نہ دیں کہ وہ وزارت سے مستعفی ہوجائیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کب کیا کرنا ہے۔ ضلع میں مقبولیت سے محروم کانگریس قائدین اس طرح کی الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ گزشتہ تین برسوں سے وزارت میں ہوں اور میرا ریکارڈ بے داغ ہے۔ رکن قانون ساز کونسل کے نارائن ریڈی نے کہا کہ بدعنوانیوں میں ملوث کانگریس قائدین کو دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔