بیاس سانحہ : حکومت کی رپورٹ پر ہائیکورٹ غیرمطمئن

شملہ ۔16 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بیاس سانحہ پر ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ موقف رپورٹ پر انتہائی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہماچل پردیش ہائیکورٹ نے 19 جون تک تازہ رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ کارگذار چیف جسٹس منصور احمد میر اور جسٹس ترلوک سنگھ چوہان پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے منڈی ڈیویژنل کمشنر کی سست تحقیقات پر ناراضگی کا اظہارکیااور انھیں ہدایت دی کہ آئندہ 19 جون کو ہونے والی سماعت سے قبل تحقیقاتی عمل مکمل کرلیا جائے ۔ ہائیکورٹ نے حیدرآباد کے انجینئرنگ کالج سے وابستہ طلبہ کے سیاحتی گروپ کے ساتھ پیش آئے سانحہ پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے حکومت کو موقف رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ ضلع کلو میں واقع ندی میں پاور پراجکٹ ذخیرہ آب سے اچانک پانی چھوڑنے کے نتیجہ میں 21 طلبہ غرقاب ہوگئے تھے ۔ ریاستی حکومت نے آج پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس واقعہ کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ لارجی بیارج سے چھوڑے جانے والی پانی میں اچانک اضافہ ہوگیا ۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق بیارج میں پانی کی سطح مکمل 969.50 میٹر تھی اور گیٹس کھولنے سے پہلے یہی سطح برقرار تھی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 جون کو 6:15 بجے شام لارجی بیارج کے آپریٹنگ اسٹاف نے گیٹ نمبر 5 کو 50 سنٹی میٹر تک کھول دیا اور اسے 50 کیوبک پر سکنڈ پانی کا اخراج عمل میں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر گیٹس کو بھی فوری 1.50 میٹر تک کھول دیا گیا اور اس کے نتیجہ میں پانی کی سطح 50 کیوبک میٹر فی سکنڈ سے بڑھکر 150 کیوبک میٹر فی سنٹی میٹر تک پہونچ گئی ۔ پانی کے بہاؤ اور سطح میں اضافہ اس حادثہ کی ایک اہم وجہ رہا جس میں طلبہ غرقاب ہوگئے ۔