نئی دہلی۔/8جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی کی ایک عدالت نے آج ایک 73سالہ سابق فوجی کو اپنی بہو کی عصمت ریزی کے الزامات سے بری کردیا ہے اور بتایا کہ اس خاتون نے محض اپنے خسر کی رسوائی کیلئے عصمت ریزی کا کیس دائر کیا ہے تاکہ دنیا اس کا مذاق اُڑائے۔ ایڈیشنل سیشن جج ویریندر بھٹ نے اس خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے جس نے اپنی ازدواجی زندگی میں ناچاقی کے باعث خسر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ یہ تذکرہ کیا کہ ایک عمر رسیدہ اور باپ کے برابر شخص کوجھوٹے الزامات میں پھانسا گیا ہے۔ ملزم شخص جس نے 73بہاریں دیکھی ہیں اور بحیثیت فوجی اس کا بے داغ کیریئر رہا محض رسوائی اور تمسخر اُڑانے کیلئے عصمت ریزی کا گھناؤنا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ نشاندہی کی ہے کہ اس خاتون کو شوہر نے طلاق دے دیا ہے اور یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے جس نے اپنے شوہر کا انتقام لینے کیلئے اپنے خسر کو نشانہ بنایا ہے۔ جج نے کہا کہ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ ملزم پر مردانگی کا ٹسٹ نہیں کیا گیا اورڈاکٹروں نے یوں ہی کہہ دیا کہ وہ جنسی عمل کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا تعجب ہے ڈاکٹروں نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ جس شخص کو مردانگی ٹسٹ کیلئے لایا گیا اس کی عمر 73سال ہے۔