بہار میں صدر راج کا امکان نہیں،اکثریت کے حصول کا یقین

نئی دہلی۔16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر بہار جتن رام مانجھی نے آج الزام عائد کیا کہ نتیش کمار کے حامی ’’ارکان اسمبلی کو خوفزدہ‘‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لئے افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ’’سازش‘‘ کررہے ہیں تاکہ بہار میں صدر راج نافذ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے حریف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ’’نقلی‘‘ ارکان اسمبلی کی پریڈ کروائی ہے۔ مانجھی نے جنہیں استعفی دینے سے انکار کے بعد جنتا دل (یو) خارج کردیا ہے، کہا کہ یہ فیصلہ کرنا بی جے پی کا کام ہے کہ وہ ان کی تائید کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مرکزی وزراء اور گورنر بہار سے سرکاری کام کے سلسلے میں ملاقات کی ہے۔ جنتا دل (یو) اور نتیش کمار جنہوں نے بہار میں حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ کیا ہے، افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ بہار میں صدر راج نافذ کیا جائے گا تاکہ ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درحقیقت نتیش کمار کے حامی ایسی افواہیں پھیلاکر ارکان اسمبلی کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بالکل بے بنیاد افواہ ہے۔ اگر میری ایسی خواہش ہوتی تو میں طویل عرصہ پہلے اس کی سفارش کرچکا ہوتا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 20 فروری کو وہ اکثریت حاصل کرلیں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ ہر پارٹی ان کی تائید کررہی ہے۔ نتیش کمار کے 130 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہونے کے دعوے کے بارے میں جن کی پریڈ گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی اور صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے سامنے کروائی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی ارکان اسمبلی نقلی تھے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈونے اس الزام کی تردید کردی کہ بی جے پی سازشوں کا سرچشمہ ہے اور کہا کہ جنتا دل (یونائٹیڈ) ، جنتا دل (ڈیوائیڈیڈ) بن چکی ہے اور پارٹی اپنی ہمالیائی غلطیوں کیلئے بی جے پی پر الزام عائد کررہی ہے۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب اپنی حلیف بی جے پی پر ایک اور تیر چلاتے ہوئے شیوسینا نے چیف منسٹر بہار جتن رام مانجھی کی تائید کے بارے میں کہا کہ یہ ایک گناہ ہے کیونکہ اس سے سیاست کا ایک تاریک دور شروع ہوجائے گا۔ شیوسینا کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ کسی کو بھی اس گناہ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ نتیش کمار کو 130 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے ، اس کے باوجود مانجھی بی جے پی کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور بی جے پی مانجھی کو نتیش کمار کے خلاف کھڑا کرنے کی تیاری کررہی ہے۔