پٹنہ ۔19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جتن رام مانجھی اور نتیش کمار کے درمیان سنسنی خیز مسابقت کے اختتام کے لئے اُلٹی گنتی کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ بی جے پی نے آج چیف منسٹر کو بہار کے ایوان اسمبلی میں تائید فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی کی مقننہ پارٹی کے ایک اجلاس میں جو آج مسلسل دوسرے دن منعقد کیا گیا تھا، یہ فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی کے سینئر قائد سشیل کمار مودی نے کہا کہ بی جے پی ، چیف منسٹر جتن رام مانجھی کا خط اعتماد پر رائے دہی کے دوران ساتھ دے گی۔ پارٹی نے اپنے ارکان اسمبلی کو اس سلسلے میں ایک وہپ جاری کیا ہے تاکہ دلتوں میں غریب ترین طبقہ مہا دلت کے ایک رکن کی نتیش کمار کی جانب سے توہین کا بدلہ لیا جائے۔
گورنر بہار کیسری ناتھ ترپاٹھی آج شام دیر گئے کولکتہ سے پٹنہ پہونچ گئے۔ جے ڈی (یو) کے قومی شرد یادو پہلے ہی پٹنہ پہونچ چکے ہیں۔ صدر آر جے ڈی لالو پرساد اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے پوتے کے ساتھ ’’تلک‘‘ کی رسم میں شرکت کررہے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھی رکن کونسل بھولا یادو نے اس کا انکشاف کیا۔ قبل ازیں اسپیکر ادئے نارائن چودھری نے جے ڈی (یو) کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسے کل اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے کی اور وجئے چودھری کو قائد اپوزیشن کا عہدہ دینے سے اتفاق کرلیا ہے۔ اب تک بی جے پی کے نند کشور یادو، قائد اپوزیشن تھے چنانچہ بی جے پی اس اقدام پر برہم ہے ۔ جے ڈی (یو) سے اخراج کے بعد مانجھی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسمبلی میں کسی بھی سیاسی پارٹی سے بے تعلق رکن ہوں گے۔
پٹنہ ہائیکورٹ نے چار ارکان اسمبلی کو ان پر عائد الزامات کی بناء پر خط اعتماد پر رائے دہی کے دوران ووٹ دینے سے منع کردیا ہے۔ ونئے بہاری کی اسپیکر کو خط اعتماد سے دُور رکھنے کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔ نتیش کمار اور مانجھی دونوں نے اپنے حامی ارکان اسمبلی کے اعزاز میں آج عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔ 243 رکنی بہار اسمبلی کی موجودہ کارکرد تعداد 233 ہے۔ جے ڈی (یو) بشمول اسپیکر 110 کی تائید حاصل ہے۔ مانجھی بے تعلق رکن ہیں۔ بی جے پی کے 87 ، آر جے ڈی کے 24، کانگریس کے 5، سی پی آئی کا ایک اور 5 آزاد ارکان ہیں۔ 10 نشستیں مخلوعہ ہیں۔ دونوں حریف اپنی اپنی تائید میں اضافہ کرنے کیلئے لمحہ آخر میں جان توڑ کوشش میں مصروف ہیں۔ مانجھی نے خط اعتماد سے پہلے غریب سو ابھیمان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو اُن کی تائید کی ترغیب دیں۔ بعدازاں انہوں نے کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔
پٹنہ ہائیکورٹ نے کل انہیں فیصلے کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم ہدایت دی تھی کہ ان پر عمل آوری 21 فروری کے بعد ہی کی جاسکے گی۔ جے ڈی (یو) کے چیف وہپ شراون کمار نے اسپیکر کا اعلامیہ حاصل ہونے کے بعد اپنے تمام 110 ارکان اسمبلی بشمول مانجھی کو ایک تین سطری وہپ جاری کی ہے جس میں خط اعتماد کے خلاف ووٹ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آر جے(ڈی) اور کانگریس جو نتیش کمار کی تائید کررہے ہیں ، وہ بھی وہپ جاری کرچکے ہیں۔ دریں اثناء مانجھی نے کابینہ کے اجلاس میں کئی تجاویز کی منظوری دے دی، جن میں سے ایک کل ایوان اسمبلی میں خط اعتماد پر رائے دہی کے دوران ان کی تائید کی ارکان اسمبلی سے اپیل بھی شامل ہے۔ اُردو اساتذہ کے تقررات کے قواعد میں بھی نرمی پیدا کردی ہے۔