پٹنہ ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ریاست بہار آج ایک سیاسی بحران سے دوچار ہوگئی جہاں حکمران جنتادل ( یو ) نے نتیش کمار کو لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب کرلیا لیکن باغی چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے ۔ وہ اقتدار پر برقرار رہنے کے لیے بی جے پی کی تائید بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج دن بھر جاری رہے ڈرامائی حالات کے دوران مانجھی نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا جس میں اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کے لیے تجویز پیش کی ۔ نتیش کمار کے وفادار تقریبا 20 وزراء نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی اور صرف 8 وزراء نے چیف منسٹر کی تائید کی ۔ جتن رام مانجھی نے اپنا موقف سخت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں تحلیل کے فیصلہ کا اختیار ہے ۔ انہوں نے نتیش کمار کے وفادار مزید 15 وزراء کو برطرف کرنے کی سفارش کی جب کہ کل رات وہ دو وزراء کو پہلے ہی برطرف کرچکے ہیں ۔ جوابی اقدام کے طور پر نتیش کمار کے حامی 20 وزراء نے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو ان کے استعفیٰ روانہ کردئیے ۔
گورنر توقع ہے کہ پیر کو یہاں پہنچیں گے ۔ آج شام صدر جنتادل ( یو ) شرد یادو کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں 111 کے منجملہ 97 ارکان اسمبلی نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر نتیش کمار کو قائد مقننہ پارٹی منتخب کیا گیا جو تشکیل حکومت کا دعویٰ کریں گے ۔ نتیش کمار نے کہا کہ اکثریت ان کے ساتھ ہے اور ضرورت پڑنے پر ہم اپنے ارکان کی پریڈ کروائیں گے ۔ ان کا اشارہ آر جے ڈی ، کانگریس اور سی پی آئی کی تائید کی طرف تھا ۔ 243 رکنی ایوان میں جنتادل ( یو ) کے 111 ارکان ہیں ۔ آر جے ڈی 24 ، کانگریس 5 ، سی پی آئی 1 اور دو آزاد ارکان کی جنتادل ( یو ) کو تائید حاصل ہے ۔ جب کہ بی جے پی ارکان کی تعداد 87 ہے ۔ چیف منسٹر مانجھی کے قریبی ساتھی اور وزیر نریندر سنگھ نے تاہم واضح کیا کہ وزارت میں عنقریب توسیع کی جائے گی ۔ مانجھی اپنے عہدہ سے مستعفی نہیں ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر بی جے پی کی مدد بھی حاصل کی جائے گی ۔ اس دوران دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی صدر امیت شاہ اور دیگر سینئیر قائدین کے ہمراہ بہار کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔
مانجھی نے تھالی میں چھید کیا : شردیادو
جنتادل ( یو ) قومی صدر شرد یادو نے 130 ارکان اسمبلی کی تائید کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف منسٹر جتن رام مانجھی کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کے ذریعہ پارٹی کو نقصان پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مانجھی نے تھالی میں چھید کیا ‘‘ ۔ وہ مسلسل ان سے بات کرتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ پارٹی کو بچانا چاہتے ہیں ۔۔