بھوک ہڑتال شروع کرنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کا فیصلہ

احتجاج ختم کرنے سے پہلے مطالبات قبول کرنا ممکن نہیں : ڈسٹرکٹ اڈمنسٹریشن

علی گڑھ ( یو پی ) ۔ 12 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو ) طلبہ کا جاریہ احتجاج آج 11 ویں دن میں داخل ہوگیا جب کہ طلبہ یونین کے قائدین نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی اور وہ زنجیری بھوک ہڑتال شروع کررہے ہیں ۔ اے ایم یو ایس یو کے صدرمشکور عثمانی نے بتایا کہ طلبہ یونین کی جنرل باڈی کا کل ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکام گیمپس میں گھس آنے اور تشدد کے کاموں میں ملوث رائٹ ونگ آرگنائزیشنس کے ممبرس کے خلاف کارروائی کرنے سے اتفاق نہ کرے تو بھوک ہڑتال شروع کردی جائے گی ۔ عثمانی نے کہا کہ وہ ان پولیس عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں جو طلبہ پر لاٹھی چارج کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں ۔ اس لاٹھی چارج میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔ کل رات اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے قائدین نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چندرا بھوشن سنگھ سے ملاقات کی تاکہ ان کے مطالبات کے سلسلہ میں دباؤ ڈالا جائے۔ تاہم رابطہ پر ڈسٹرکٹ اڈمنسٹریشن نے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کو ختم کردینے سے پہلے ہی ان کے مطالبات کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انھوں نے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ گزشتہ ہفتے کا جھگڑا سابق نائب صدر حامد انصاری پر حملہ کرنے کی سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حامد انصاری جو اس وقت کیمپس میں موجود تھے یہ محسوس کرتے کہ شرپسندوں نے انہیں نشانہ بنایا تو وہ یقینا پولیس میں شکایت درج کرواتے تھے۔