حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : موسم گرما میں نہ صرف بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے بلکہ برقی بلز میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ساری ریاست بالخصوص حیدرآباد میں عوام کی پہلے ہی سے یہ شکایت ہے کہ برقی بلز بہت زیادہ آتے ہیں اور ان کی شکایتیں جائز بھی ہیں کیوں کہ بعض موقعوں پر دیکھا گیا کہ برقی بلز غیر معمولی طور پر زیادہ آتے ہیں جس میں محکمہ برقی کے عہدیداروں کی غلطی رہی لیکن ان غلطیوں کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ قارئین ۔ ایسے کئی طریقے ہیں جسے اپنا کر نہ صرف بجلی کے استعمال میں کمی کی جاسکتی ہے بلکہ بھاری برقی بلز سے بھی چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ۔ بھاری برقی بلز کے لیے بلبس ، ٹیوب لائٹس ، پنکھے ، کمپیوٹرس کے علاوہ ایرکنڈیشنڈ اور ریفریجریٹرس کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ سچ بھی ہے لیکن تھوڑی سی احتیاط برتتے ہوئے ہم بھاری برقی بلز ادا کرنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم نے برقی اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں ٹی وی و ریفریجریٹرس ( فریج ) کے ماہر ٹیکنیشنس اور عوام سے بات کی جس پر پتہ چلا کہ عوام بھاری برقی بلز سے کافی پریشان ہیں ۔ لیکن اس پریشان کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دور کیا جاسکتا ہے ۔ شہر میں الیکٹریکل گڈس ( برقی کا سامان ) فروخت کرنے کے لیے مشہور محمد یونس کا کہنا ہے کہ اگر صارفین ذرا سی احتیاط سے کام لیں تو ان کے برقی بلز میں 30 تا 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے ۔
مثال کے طور پر عام قسم کے بلبس اور ٹیوب لائٹس جو 100 واٹس اور 60 واٹس کے ہوتے ہیں انہیں روشن کرنے سے بجلی بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے ۔ ان حالات میں اگر لوگ ایل ای ڈی (Light Emitting Diode) اور سی ایف ایل (Compact Flourescent Lamp) بلب اور ٹیوبس استعمال کرنا شروع کردیں تو عام قسم کے بلبس و ٹیوب لائٹس کی بہ نسبت برقی کی بہت زیادہ بچت ہوگی جس کے نتیجہ میں بلز بھی کم آئیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ سیلنگ فیان بھی بلز میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں خاص طور پر 6 تا 8 سال پرانے پنکھے چلائے جانے پر برقی زیادہ استعمال ہوتی ہے ۔ آجکل المونیم باڈی کے نئے فیانس بازار میں فروخت کئے جارہے ہیں جو برقی بچت کا بہترین ذریعہ ہے اس طرح کے پنکھوں کی قیمت کم از کم 1400 روپئے ہے ۔
انجینئر خواجہ مرتضی علی نے بتایا کہ حسب ضرورت بلبس یا ٹیوب لائٹس روشن کئے جانے چاہئے ۔ اس طرح کی احتیاطی تدابیر کے ذریعے بڑھتے برقی بلز میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ موسم گرما میں برقی پنکھے بہت زیادہ چلائے جاتے ہیں ۔ ایک ٹیوب لائٹ تقریبا 55 واٹس برقی خرچ کرجاتا ہے ۔ ان حالات میں ٹیوب لائٹس کی جگہ ایل ای ڈی یا سی ایف ایل بلبس / ٹیوب لائٹس اور المونیم باڈی کے پنکھے استعمال کرتے ہوئے برقی بلز میں اچھی خاصی کمی لائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے عوام کو برانڈیڈ پنکھے خریدنے کا مشورہ دیا ہے ۔ پرانا شہر کے ایک مشہور ریفریجریٹر ٹیکنیشن اور ٹیکنیشن کی نئی نسل کو تربیت فراہم کرنے والے جناب ایم اے حمید کا کہنا ہے کہ بعض ریفریجریٹر یومیہ 5 تا 6 یونٹس برقی صرف کرتے ہیں لیکن کمپریشر نیا ہو تو وہ 2 تا 2.1/2 یونٹ برقی ہی استعمال کرتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈبل ڈور فریج کو آپ دن میں ایک دو گھنٹے بند بھی رکھ سکتے ہیں لیکن سنگل ڈور فریج کو مسلسل چالو رکھنا ضروری ہے ۔ انجینئرس کو حقیقت میں انجینئرس بننے کی تربیت فراہم کرنے والے انجینئر محمد عظم الدین اسد مکانات میں برقی کے کم استعمال کے بارے میں کہتے ہیں کہ کمپیوٹرس ( ڈیسک ٹاپ ) سے بجلی بہت زیادہ خرچ ہوتی ہے ۔ ان حالات میں آل ان ون ڈیسک ٹاپ بجلی صرف کرنے میں بہت مدد کرتا ہے ۔ بہر حال چند احتیاطی اقدامات کے ذریعہ ہم بجلی کے بھاری بلوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔۔