جکارتہ۔21 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایک 15 سالہ لڑکی کی اُس کے 17 سالہ بھائی نے عصمت ریزی کی اور حاملہ ہونے کے بعد لڑکی کے دریعہ حمل ساقط کروانے کی پاداش میں چھ ماہ کی سزائے قید جبکہ اُس کے بھائی کو دو سال کی سزائے قید سنائی گئی ۔ ماؤرا بلیان ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس گھناؤنے جرم کی سماعت کی گئی ۔ لڑکی پر چائلڈ پروٹکشن لاء کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ۔ انڈونیشیائی قانون کے مطابق حمل اُس وقت تک ساقط نہیں کروایا جاسکتا جب تک ماں کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو یا پھر عصمت ریزی کی وجہ سے کوئی لڑکی حاملہ ہوگئی ہو جبکہ قوانین میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ حمل ساقط کرنے کے لئے کسی ماہر اور پیشہ ور ڈاکٹر کی خدمات حاصل کی جائیں اور وہ بھی اُس صورت میں جب حمل چھ ہفتوں سے کم کا ہو ۔ گزشتہ سال ستمبر سے درندہ صفت بھائی نے اپنی بہن کے ساتھ آٹھ بار منہ کالا کیا۔ اس واقعہ پر عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔