وزارت برائے فلاح و بہبودی خواتین و اطفال کا بیان
نئی دہلی ۔18 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت برائے بہبودی خواتین و اطفال کابینہ سے رجوع ہوگی تاکہ بچپن کی شادی کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے آج اس کا انکشاف کیا ۔ وزارت کی تجویز اگر منظور ہوجائے تو قانون میں ترمیم ہوسکتی ہے جس کے ذریعہ بچپن کی شادیاں جاری ہیں ، حالانکہ اکٹوبر 2017 ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ نابالغ بیوی کے ساتھ جنسی صحبت عصمت ریزی کے زمرے میں شامل کی جائے گی کیونکہ کسی بھی صورتحال میں 18 سال سے کم عمر بچہ اپنی رضامندی ظاہر نہیں کرسکتا اور نہ اس عمل میں ساتھ دے سکتا ہے ۔ فی الحال بچپن کی شادیاں ہندوستان میں کارکرد سمجھی جاتی ہیں لیکن انھیں کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے بشرطیکہ ضلعی عدالت میں کوئی مقدمہ دونوں میں سے کسی ایک فریق کی جانب سے دائر کیا جائے جس کو بالغ ہونے کیلئے ہنوز دو سال باقی ہوں یا پھر وہ اپنے سرپرست کے ذریعہ ایسا مقدمہ دائر کرسکتا ہے ۔ وزارت نے انسداد بچپن کی شادی قانون کی دفعہ 3 میں ترمیم کی خواہش کی ہے ۔ وزارت چاہتی ہے کہ اس دفعہ میں ترمیم کردی جائے جس کے تحت بچپن کی شادی کو اُسی صورت میں کارکرد قرار دیا جاسکے گا جبکہ دونوں فریقین اس سے متفق ہوں ۔ وزارت بہبودی خواتین و اطفال کے عہدیدار نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک مسودہ کابینہ کو روانہ کیا جاچکا ہے اور اسے اُن تمام میں گشت کروایا گیا ہے جو بچپن کی شادی کو کالعدم قرار دینے کے مخالف ہیںاور بچپن کی شادی کی تائید کرتے ہیں۔ ہندوستان میں شادی کی قانونی عمر خاتون کیلئے 18سال اور مرد کیلئے 21 سال ہے ۔ ایک مطالعہ کے بموجب جو مردم شماری 2011ء پر مبنی ہے 23 کروڑ بچے ملک میں موجود ہیں جن کی بچپن میں شادی کردی گئی ہے ۔ قومی خاندانی صحت سروے 2015-16 ء سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 26 فیصد خواتین 18 سال کی ہونے سے پہلے بیاہ دی جاتی ہیں۔ اس مردم شماری کی رپورٹ کے بموجب تقریباً 8 فیصد لڑکیاں15سال سے کم عمر میں ماں بن جاتی ہیں یا مردم شماری کے وقت حاملہ پائی گئیں تھیں۔ عالمی صحت تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں اس مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر میں 11 فیصد ولادتیں کم عمر لڑکیوں کو ہوئی تھیں جن میں سے 23 فیصد پیدائشی بیمار بچے تھے ۔