بوڈو شدت پسندوں نے الیکشن میں بوڈو کو ووٹ نہ دینے کا انتقام مسلمانوں سے لیا

نئی دہلی۔ 9 مئی (فیکس) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ ماہ رجب میں زیادہ سے زیادہ عبادت، تلاوت اور نفلی نمازوں اور روزوں کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضورﷺ رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی دعا فرماتے تھے۔ اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔ شاہی امام نے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے پرزور اپیل کی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے اور ان کی بے چینی کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہیکہ مسلمانوں نے ہندوستان کی ترقی اور خوشحالی میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دی ہیں اور ابھی تک وہ اپنے وطن کے لئے ہر خدمت کیلئے ہر وقت تیار ہیں لیکن آزادی کے بعد سے آج تک حکومتوں کا رویہ ان کے ساتھ منصفانہ نہیں رہا۔ بے قصور مسلم جوانوں کی گرفتاری برابر جاری ہے۔

دو روز قبل پٹنہ سے ایک تعلیم یافتہ مسلم نوجوان عمار یاسر کو گرفتار کیا گیا ہے جو جئے پور کے انجینئرنگ کالج کے فائنل ایئر کا طالب علم ہے۔ اسی طرح اور بھی بے قصور تعلیم یافتہ مسلم نوجوان گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے گئے جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں میں خوف و ہراس ہے اور ان کے والدین کو اس کی کوئی خبر تک نہیں کی گئی۔ پولیس اور اے ٹی ایس شک و شبہ کی بنیاد پر بغیر ٹھوس ثبوت کے گرفتار کرلیتی ہے بعد میں سالوں کی تکلیف کے بعد بہت سے مسلم نوجوان عدالت سے رہا کئے جاچکے ہیں جس کا مطلب یہ ہیکہ پولیس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکی اور غلط خبروں کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بم دھماکوں کی تحقیقات آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ہونی چاہئے۔ شاہی امام نے آسام کے بکسا، کوکراجھار اور چرانگ علاقوں میں بوڈو انتہاء پسندوں کے ہاتھوں مسلمان عورتوں اور بچوں کے قتل عام کی مذمت کی جو ایک ہفتہ قبل واقعات پیش آئے اور سینکڑوں مسلمان اپنے گاؤں چھوڑ کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لے چکے ہیں۔

بوڈو شدت پسندوں نے الیکشن میں بوڈو کو ووٹ نہ دینے کا بدلہ لیا۔ دو سال میں آسام میں یہ دوسرا سنگین واقعہ ہے۔ وہاں کی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ شاہی امام نے ڈاکٹر منموہن سنگھ، وزیرداخلہ اور شریمتی سونیا گاندھی سے پرزور اپیل کی کہ قصورواروں کو سخت سزاء دی جائے اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور بھرپور معاوضے دیئے جائیں اور آسام میں کوئی فرض شناس وزیراعلیٰ مقرر کیا جائے۔ شاہی امام نے امیت شاہ کو سی بی آئی کی طرف سے کلین چٹ دیئے جانے پر شدید حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عشرت جہاں انکاونٹر کیس 2004ء کے علاوہ کتنے معاملات ہیں جن میں امیت شاہ ملوث ہیں اور وزیرقانون کپل سبل نے میڈیا کے سامنے اس سلسلہ میں کافی ثبوت رکھے تھے۔ اس تحقیقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مفتی مکرم نے ڈاکٹر منموہن سنگھ سے مسلمانوں کو انصاف دلائے جانے کی اپیل کی۔