ڈھاکہ ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت بنگلہ دیش نے خبردار کیا ہیکہ ملک میں جاری سیاسی بے چینی کو کچلنے کیلئے سخت ترین انسداد دہشت گردی قوانین کے نفاذ کے علاوہ بشمول سزائے موت مختلف قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 6 جنوری سے ملک گیر احتجاجی مہم شروع کی ہے جس کے نتیجہ میں پرتشدد واقعات کے درمیان تاحال 66 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے حکام نے خبردار کیا کہ سبوتاج کی سرگرمیوں کے خلاف سخت انسداد دہشت گردی کے سخت ترین قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی اور خاطی پائے جانے والوں کو سزائے موت بھی دی جائے گی۔ اس وارننگ کے منظرعام پر آنے سے چند گھنٹے قبل بی این پی سربراہ خالدہ ضیاء نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔ خالدہ ضیاء نے کہا تھا کہ ’’میں تمام نتائج اور عواقب کا سامنا کرنے تیار ہوں کیونکہ ہمارا عرصہ حیات بہت تنگ کیا جاچکا ہے۔ اب ہمارے پاس اپنی تحریک جاری رکھنے کے سوائے کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے‘‘۔ خالدہ ضیاء کے اس بیان کے فوری بعد بنگلہ دیش کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے خبردار کیا کہ پٹرول چھڑک کر شہریوں کو زندہ جلانے والے اور گاڑیوں پر پٹرول بم پھینکنے والے سبوتاج پسند عناصر کو اپنی سرگرمیوں کے سبب سزائے موت کا سامنا ہوگا۔ سرکاری منصوبہ سے باخبر عہدیداروں نے کہا کہ سیاسی گڑبڑ پر قابو پانے کیلئے انسداد دہشت گردی قانون نافذ کیا جارہا ہے۔ کابینہ نے موجودہ قانون کو مزید چند نئے قوانین کے ساتھ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس دوران وزارت داخلہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے تشدد اور ہنگامہ آرائی میں ملوث عناصر کے خلاف دیگر قوانین کا تذکرہ کیا۔ اس قانون میں گذشتہ سال ترمیم کرتے ہوئے سزاؤں کو مزید سخت بنایا گیا تھا۔
دوسری طرف پانچہ گڈھ کی ایک عدالت نے اس ضلع میں خالدہ ضیاء کی طرف سے اپنے کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے المام کا ازخود نوٹ لیا۔ حکمراں عوامی لیگ کے ایک حامی نے بی این پی سربراہ کے خلاف یہ مقدمہ دائرکیا تھا۔ ڈھاکہ اور وسطی کومیلا میں پولیس پہلے ہی خالدہ ضیاء کے خلاف ایسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرچکی ہے۔ یہ مقدمات آتشزنی کے ان بدترین حملوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں 12 افراد زندہ جھلس کر فوت اور دیگر کئی بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔ خالدہ ضیاء پر ان مقدمات میں الزام ہیکہ وہ ہی یہ حملے کرنے کا حکم دی تھیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہیکہ دوران تحقیقات اگر اس بات کا اشارہ مل جائے کہ سابق وزیراعظم خالدہ نے اپنے حامیوں کو تشدد کیلئے اکسایا تھا تو انہیں (خالدہ کو) گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ بی این پی کے کئی اہم قائدین کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں سکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر بھی شامل ہیں۔ ان تمام کو متعدد پرتشدد واقعات کے الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم خالدہ ضیاء نے سیاسی گڑبڑ اور ہنگامہ آرائی کے دوران ہونے والی اموات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہیکہ ہم عوام کی زندگیوں پر سیاست نہیں کرتے۔ ان اموات کیلئے انہوں نے اپنی کٹر سیاسی حریف وزیراعظم شیخ حسینہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔