ڈھاکہ ۔ 2 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ رضاکار باہنی جو دراصل پاکستانی افواج کی ایک ضمنی فورس ہے، سے تعلق رکھنے والے دو ارکان کو بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ایک ٹریبونل نے سزائے موت سنائی۔ ان پر الزام ہیکہ 1971ء کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران وہ ہندوؤں کے خلاف جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔ 66 سالہ عبیدالحق طاہر اور 62 سالہ عطاء الرحمن نونی رضاکار فورس کے ارکان ہیں۔ ان کو چھ الزامات کا سامنا ہے جس میں قتل اور نسل کشی بھی شامل ہے۔ ڈھاکہ ٹریبون کے مطابق ملزمین نے اپنے جرائم سے انکار کیا ہے۔ ملک کے بین الاقوامی کرائم ٹریبونل نے دونوں کو دو الزامات کے تحت سزائے موت اور دیگر دو الزامات کے تحت موت واقع ہونے تک سزائے قید سنائی ہے جبکہ مزید دو معاملات میں انہیں قصوروار نہ پاتے ہوئے بری کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہاکہ سزائے موت پر عمل آوری کا طریقہ کار حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے انہیں پھانسی پر لٹکائے یا پھر فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کرکے انکا کام تمام کردیا جائے۔ طاہر اور نونی نے 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران کم و بیش 30 افراد کا اغواء اور قتل کردیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ 400 تا 450 دکانات کو لوٹنے کے بعد انہیں نذرآتش بھی کردیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد جنگی جرائم کے جملہ 22 معاملات میں 26 ملزمین کے منجملہ سزائے موت پانے والوں کی تعداد 18 ہوگئی۔