ڈھاکہ 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی لیڈر خالدہ ضیا کے ساتھ تازہ بات چیت کا امکان مسترد کردیا ہے ۔ ایک دن قبل ہی خالدہ ضیا نے ادعا کیا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک حکومت آزادانہ انداز میں وسط مدتی انتخابات کروانے کیلئے تیار نہیں ہوجاتیں۔ خالدہ ضیا نے احتجاج سے ہونے والی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے کہا تھا کہ انہیں وسیع تر قومی مفاد میں ان مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا ۔ شیخ حسینہ نے بی این پی لیڈر خالدہ ضیا کو قاتل اور دہشت گردوں کی لیڈر قرار دیا اور ان سے کہا کہ وہ ڈھاکہ کی عدالت میں خود سپردگی اختیار کرلیں ۔ عدالت نے گذشتہ مہینے وارنٹ جاری کرتے ہوئے کرپشن کے دو مقدمات میں انہیں گرفتار کرنے کے احکام جاری کئے تھے ۔ نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں شیخ حسینہ نے کہا کہ ان ( خالدہ ضیا ) سے بات کرنے کو اب کیا رہ گیا ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ خالدہ ضیا کو مغرب ( مغربی ممالک ) سے کوئی مدد نہیں ملی ہے
اور نہ ہی مشرق ( فوج کاحوالہ ) سے کوئی مدد ملی ہے اس لئے وہ اپنی برہمی میں عوام کو جلا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ خالدہ ضیا نے کل ہی کہا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف جاری احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک حکومت منصفانہ اور موثر وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کیلئے بات چیت پر تیار نہیں ہوجاتیں۔ انہوں نے ادعا کیا تھا کہ اس بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری اب حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جو جدوجہد شروع ہوئی ہے وہ اپنے منطقی انجام تک پہونچنے تک جاری رہے گی ۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ نے تاہم آج خالدہ ضیا کو مشورہ دیا کہ وہ ڈھاکہ کی ایک عدالت میں خود کو گرفتاری کیلئے پیش کردیں جس نے گذشتہ مہینے کرپشن کے دو مقدمات میں ان کی گرفتاری کے وارنٹس جاری کئے تھے ۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اگر خالدہ ضیا خود سپردگی اختیار نہیں کرتیں تو حکومت عدالت کے احکام پر عمل آوری کیلئے مجبور ہوجائیگی ۔ تاہم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے اس دوران کہا ہے کہ بات چیت اسی وقت ہوسکتی ہے جب خالدہ ضیا عوام کی ہلاکتوں اور اپنی دہشت گرد طاقتوں کا استعمال ترک کردیں ۔ عوامی لیگ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی ۔
عوامی لیگ کے جنرل سکریٹری و وزیر اشرف الاسلام نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریگا ۔ بنگلہ دیش کو بھی اس سے استثنی نہیں ہے ۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے عوام کے خلاف جنگ شروع کردی ہے اور ہم کو اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔ لیکن اگر وہ پر تشدد حملے ‘ آگ زنی اور لوگوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ بند کرتے ہوئے پرامن ماحول پیدا کرتے ہیں تو پھر بات چیت ہوسکتی ہے ۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں ملک کی 20 اپوزیشن جماعتوں نے 6 جنوری سے مسلسل ٹرانسپورٹ بند کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس دوران کئی ہلاکت خیز حملے ہوئے ہیں اور بسوں و ٹرکس کو نذر آتش کیا گیا ہے ۔ ان حملوں میں اب تک 120 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس اپوزیشن اتحاد میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے ۔ اس دوران بنگلہ دیش نینلسٹ پارٹی نے آج رات اعلان کیا کہ کل سے 72 گھنٹوں کی ملک گیر ہڑتال ہوگی ۔ کہا گیا ہے کہ پارٹی کے قائدین صلاح الدین احمد اور دوسروں کو گرفتار کرنے کے خلاف یہ احتجاج کیا جارہا ہے اور تین دن تک ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا ۔