مالی نشانہ کی تفصیل روانہ کرنے کے لئے بنکوں کے مکتوبات کا ہنوز جواب داخل نہیں کیا گیا
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود ریاست بالخصوص بینکوں کی جانب سے تیار کئے جانے والے سالانہ منصوبہ میں شمولیت اختیار کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے بلکہ بینکوں کی جانب سے سالانہ منصوبہ برائے سال 2015-16 کے لیے مالی نشانہ کی تفصیل روانہ کرنے مکتوبات روانہ کئے جانے کے باوجود اب تک جواب نہیں دئیے گئے ۔ اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد نے تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے تمام ایکزیکٹیو ڈائرکٹرس کو مکتوب روانہ کرکے مالی سال 2015-16 کے نشانہ کی تفصیل روانہ کرنے کی خواہش کی اور اس کیلئے 10 فروری تک کا وقت دیا تھا لیکن اس کے باوجود اب تک جواب روانہ نہیں کئے گئے ۔ اب تک بنکوں سے اقلیتوں کو اس بات کی شکایت ہوا کرتی تھی کہ حکومت کی جانب سے سالانہ منصوبہ میں اقلیتوں کے لیے مختص نشانہ کو بنک پورا نہیں کرتے جس کے سبب بینکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب بینک خود نشاندہی کی تفصیلات دریافت کررہے ہیں ۔ لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا جارہا ہے ۔ جس سے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا تساہل ظاہر ہوتا ہے ۔ جب ریاست کے بینکوں کی جانب سے سالانہ منصوبہ تیار کیا جاتا ہے تو اس وقت تمام محکمہ جات بالخصوص محکمہ زراعت کے علاوہ بہبود سے متعلق محکمہ جات سے ضلع و منڈل واری اساس پر نشانہ اور مالی ضروریات دریافت کی جاتی ہیں تاکہ سالانہ منصوبہ میں اسے شامل کرتے ہوئے منظوری فراہم کی جاسکے ۔ اور یہی سالانہ منصوبہ پورے سال کے دوران فلاح و بہبود کے علاوہ دیگر سرگرمیوں کی انجام دہی کا تہیہ کرتا ہے ۔ لیکن جب سالانہ منصوبہ میں ہی اقلیتوں کی تفصیلات ، نشانہ اور مالی ضروریات نہیں ہوں گی تو پھر مکمل مالی سال کے دوران ان کی بے سمت ترقی کے ہی دعوے کئے جاتے رہیں گے ۔ باوثوق ذرائع کی اطلاعات کے بموجب اعلیٰ عہدیدار سالانہ منصوبہ کی تیاری میں لمحہ آخر میں سال گزشتہ سے چند فیصد اضافہ کرکے رپورٹ روانہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ روایتی اضافہ ہوتا رہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے رپورٹ روانہ کرنے میں اس لیے بھی پس و پیش کیا جارہا ہے کہ مطالبات کی فہرست کی روانگی اور آئندہ مالی سال کے نشانہ کے متعلق اگر جلدی رپورٹ دے دی جائے تو جاریہ مالی سال یعنی 2014-15 کے مختص کردہ نشانہ کی کارکردگی کے متعلق سوالات اٹھائے جائیں گے اور ان سوالات کے جواب میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے فی الحال کوئی کارنامہ موجود نہیں ہے جس سے حکومت یا بینکوں کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خوش کرسکیں اور یہ بتاسکیں کہ جاریہ مالی سال کے اختتام کے قریب نشانہ کی تکمیل کرلی گئی ہے ۔ عہدیداروں کے اختیار کردہ رویہ سے ماتحت ملازمین جو ضلع اور منڈل واری اساس پر خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں ضلع کلکٹرس و بینک عہدیداروں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے دعوے اس طرح کی حرکات سے کھوکھلے ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ چونکہ جب سالانہ منصوبہ میں ہی اقلیتوں کے متعلق رپورٹس موجود نہیں ہوں گی اور ان کی ضروریات و مطالبات موجود نہیں رہیں گے تو کس طرح ان کی ترقی ممکن ہوپائیگی ؟ ۔