اسلام آباد۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سربراہ فوج جنرل راحیل شریف نے آج انتباہ دیا کہ بیرونی ممالک اور ان کے سراغ رسانی محکموں کو دہشت گردوں کی تائید کرتے ہوئے جو شورش زدہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جاری ہے، ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ جنرل راحیل شریف نے بلوچ قوم پرست عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 20 کارکنوں کی گزشتہ ہفتہ ہلاکت کے بعد اس صوبہ کا دورہ کیا۔ بلوچ قوم پرست عسکریت پسند صوبہ کے وسائل پر عظیم تر کنٹرول کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ سربراہ فوج نے بیرونی ممالک اور ان کے سراغ رسانی محکموں کو بلوچستان کے دہشت گردوں کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششوں کے خلاف انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو مکمل طور پر شکست دے دی جائے گی۔ انہوں نے عہد کیا کہ دہشت گردوں ، ان کی تائید کرنے والوں ، ہمدردوں اور مالیہ فراہم کرنے والوں کو مکمل شکست دے دی جائے گی۔ کسی کو بھی چھپنے کیلئے اس ملک میں جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مملکت کی حکمرانی لاگو کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ سربراہ پاکستانی فوج نے غریب اور بے قصور مزدوروں کی تربت میں ہلاکت پر اظہار رنج و غم کیا۔ بلوچستان کو بلوچ قوم پرستوں کی مسلح شورش کا سامنا ہے جو شہریوں اور فوجیوں کو حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ سربراہ فوج اور فوج کے ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ کونسا ملک بلوچستان میں دخل اندازی کررہا ہے لیکن سرکاری عہدیدار قبل ازیں صوبہ بلوچستان میں گڑبڑ پیدا کرنے کیلئے ہندوستان اور افغانستان پر الزام عائد کرچکے ہیں۔ مزدوروں کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگتی نے ہندوستانی محکمہ سراغ رسانی ’’را‘‘ کو صوبہ بلوچستان کے عسکریت پسندوں کی تائید کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔