حکومت ٹال مٹول کرے تو راست الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جاسکتی ہے : عدالت
حیدرآباد 16 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں تاخیر کی وجہ سے حکومت تلنگانہ کوآج ہائیکورٹ کی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ۔ ریاستی حکومت کو آج اس وقت ہائیکورٹ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے مجلس بلدیہ کے انتخابات کروانے چھ ماہ کا وقت لب کیا ۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو مطلع کیا کہ حکومت کو انتخابات کے انعقاد میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ مزید کچھ وقت اس لئے چاہتی ہے کہ وارڈز کی از سر نو حد بندی کے کام کو مکمل کرلیا جائے ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں ایک سماعت کے دوران ہائیکورٹ کو مطلع کیا کہ جی ایچ ایم سی کیلئے انتخابات جاریہ سال ڈسمبر میں منعقد کئے جائیں گے ۔ عدالت نے اس وقت کہا تھا کہ انتخابات کے انعقاد کیلئے اتنے طویل وقت کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب آج دوبارہ اس مسئلہ پر سماعت ہوئی حکومت نے کچھ اور وقت طلب کیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور یہ سوال کیا کہ حکومت کتنی مرتبہ انتخابات کو ٹالتی رہے گی ؟ ۔ حکومت کو عدالت نے کی جانب سے انتباہ دیا گیا کہ اگر ریاستی حکومت تیزی سے کارروائی نہیں کرتی تو عدالت خود الیکشن کمیشن سے انتخابات کے انعقاد کیلئے کہے گی ۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے ریاستی الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا تو عدالت مرکزی الیکشن کمیشن سے یہ ذمہ داری ادا کرنے کو بھی کہہ سکتی ہے ۔ ریاستی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کیس میں 20 اپریل کو آئندہ سماعت تک اپنا جواب داخل کرے ۔