اسپیشل آفیسر و کمشنر بلدیہ کے بلند بانگ دعوے وفا نہ ہوسکے ، اعلانات ناکام ثابت
حیدرآباد ۔ 17 ڈسمبر ۔ ( سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے اعلانات ایک مرتبہ پھر پرانی کہاوت ’’بلدیہ کھایا پیا چلدیا ‘‘کے مترادف ثابت ہورہے ہیں ۔ عموماً جی ایچ ایم سی پر جب کبھی ایک عہدیدار کا تسلط ہوتا ہے اور عہدیدار پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں بلدی حدود میں ظاہری طورپر ہی سہی سرگرمیاں تیز ہونے لگتی ہیں اور عہدیداروں کی جانب سے بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جانے لگتی ہے لیکن اب جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے منتخبہ امیدواروں کی میعاد کے اختتام کے بعد کی صورتحال ہے وہ بالکلیہ طورپر سابقہ اسپیشل آفیسر کے ادوار کے برعکس ثابت ہورہی ہے لیکن حالیہ دنوں میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں عہدیداروں کے جائزہ اجلاس کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اسپیشل آفیسر و کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر سومیش کمار نے گزشتہ ماہ پرانے شہر کے علاقہ اپوگوڑہ کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ماہ ڈسمبر کے دوسرے ہفتہ میں بہرصورت اپوگوڑہ فلائی اوور بریج کا آغاز کردیا جائے گا اور اس کے افتتاح کی تاریخ کا تعین کرنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن دو ہفتے گذرنے کے باوجود بھی اپوگوڑہ فلائی اوور کا کام جاری ہے لیکن کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں کی جارہی ہے ۔ اسی طرح انھوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ جی ایچ ایم سی ٹولی چوکی فلائی اوور کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنائے گی اور تل سنکرات کے موقع پر ٹولی چوکی فلائی اوور کا افتتاح انجام دیا جائے گا ۔ لیکن ٹولی چوکی فلائی اوور کی صورتحال بھی جوں کی توں ہے اور تعمیراتی کاموں کی رفتار سست روی کے ساتھ جاری ہے اُس کے باوجود بلدی عہدیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے عام انتخابات کے فوری بعد اس بات کااعلان کیا گیا تھا کہ جس طرح 5 روپئے میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم شروع کی گئی ہے اُسے نہ صرف توسیع دی جائیگی بلکہ بہت جلد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ایک روپئے میں ناشتہ کی اسکیم کا آغاز عمل میں لایا جائے گا تاکہ غریب عوام کو رعایتی قیمت پر ناشتہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جی ایچ ایم سی کے اس اعلان اور 5 روپئے میں دوپہر کے کھانے کی اسکیم کو دیکھتے ہوئے عوام کی توقعات میں اضافہ ہوا تھا اور یہ کہا جانے لگا تھا کہ بہت جلد بلدی عہدیدار 1 روپئے میں ناشتہ کی فراہمی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے چونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق ایک روپئے میں اڈلی ، وڈا کے علاوہ اوپما فراہم کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا گیاتھا ۔ یہاں تک کہاگیا تھا کہ شہر کے بس اسٹانڈ اور ریلوے اسٹیشنوں پر تجرباتی اساس پر اس اسکیم کا آغاز کیا جائے گا لیکن بلدی عہدیداروں کے اعلانات صرف اخباری تشہیر کا ذریعہ ثابت ہورہے ہیں ۔ عملی طورپر بلدیہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہورہی ہے کہ موجودہ بلدی عہدیدار صرف جائزہ اجلاس اور ناقابل عمل اعلانات کی حد تک محدود ہوچکے ہیں۔