بغداد 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق کی حکومت نے بغداد کے دفاع کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کرلی ہے کیونکہ وہاں تخریب کاروں نے دوسرے شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے بغداد کی سمت مارچ شروع کردی ہے ۔ اس دوران امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ وہ عراق کی سکیوریٹی فورسیس کو نقصانات سے بچانے کیلئے تمام امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ نے کہا کہ اس کی کئی کمپنیاں شمالی بغداد کے ایک بڑے فضائی ٹھکانے سے اپنے عملہ کا تخلیہ کر رہی ہیں۔ عسکریت پسندوں کی سکیوریٹی فورسیس سے لڑائی شروع ہوچکی ہے ۔ یہ جھڑپیں شہر بغداد سے 80 کیلومیٹر کے احاطہ میں ہو رہی ہیں۔ چونکہ یہ عسکریت پسند بغداد سے قریب ہوتی جا رہی ہیں ایسے میں عراق کے خود مختار کردش علاقہ کی افواج نے کچھ علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے جس پر وہ کئی دہوں سے اپنا ادعا جتایا کرتے تھے ۔ امریکی صدر نے کہا کہ عراق کو امریکہ سے مزید امداد کی ضرورت ہوگی اور بین الاقوامی برادری کو بھی مدد کرنی ہوگی تاکہ وہاں سکیوریٹی فورسیس کو مستحکم کیا جاسکے ۔ عراق کی سکیوریٹی فورسیس کی ٹریننگ اور انہیں ہتھیاروں سے لیس کرنے پر امریکہ نے کئی بلین ڈالرس کی رقم خرچ کی ہے ۔
یہاں سے امریکہ نے 2011 میں اپنی افواج سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ اوباما نے کہا کہ ان کی قومی سکیوریٹی ٹیم عراق میں تمام امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں اور یہاں کچھ بھی خارج از امکان نہیں ہے ۔ عراق کی وزارت داخلہ نے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس نے ایک نیا سکیوریٹی منصوبہ اختیار کیا ہے تاکہ دارالحکومت بغداد کا تحفظ کیا جاسکے اور آگے بڑھنے والے عسکریت پسندوں کو روکا جاسکے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل سعد مان نے بتایا کہ اس منصوبہ میں فورسیس کی تعیناتی میں شدت پیدا کرنا اور انٹلی جنس کوششوں کو مستحکم کرنا ہے ۔ حکومت نگران کار کیمرے اور غبارے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا تھا اور اب صورتحال بالکل سنگین ہوگئی ہے ۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے شہر سمارا پر قبضہ کرنے کیلئے تازہ حملے کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے قبضہ والے تکریٹ اور سمارا کے مابین ایک علاقہ کے عینی شاہدین نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ بے شمار گاڑیاں بندوق برداروں کے ساتھ جنوب کی سمت پیشرفت کر رہی ہیں۔
سمارا کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بندوق بردار شمال ‘ مشرق اور جنوب مشرق کی سمت مجتمع ہو رہی ہیں۔ ایک قبائلی رہنما نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے سکیوریٹی فورسیس سے رابطہ کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ پرامن طریقہ سے یہاں سے دستبردار ہوجائیں اور یہ وعدہ کیا ہے کہ وہاں امام عسکری کی بارگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہونچایا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس نے یہاں سے دستبرداری اختیار کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ عسکریت پسندوں نے سمارا پر دو حملے کئے ہیں۔
ایک چہارشنبہ کو اور ایک گذشتہ ہفتے کیا گیا تھا تاہم گھمسان کی لڑائی کے بعد ان حملوں کو پسپا کردیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ 2006 میں بھی امام عسکری کے روضہ مبارک پر بم گرائے گئے تھے جس کے بعد یہاں فرقہ واری کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا ۔۰ کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دیالہ صوبہ کی سمت پیشرفت کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ آج موافق حکومت افواج اور عسکریت پسندوں کے مابین مقدادیہ کے مقام پر لڑائی شروع ہوگئی ہے جو بغداد سے 80 کیلومیٹر کے احاطہ میں ہے ۔ دیالہ کے ڈپٹی گورنر فرات التمیمی نے بتایا کہ یہاں سے فوج کی دستبرداری کے بعد کردش سکیوریٹی فورسیس اہمیت کے حامل سعدیہ اور جلاؤلہ اضلاع میں داخل ہوگئی ہیں۔ کردش سکیوریٹی فورسیس پہلے ہی کرکک شہر پر جمعرات کو قبضہ کرچکی ہیں جب یہاں سے مرکزی افواج کا کنٹرول ختم کردیا گیا تھا ۔ اس شہر پر قبضہ کرنا کرد افواج کی دیرینہ خواہش رہی تھی ۔ کردش افواج اپنے خود مختار علاقہ کو وسعت دینا چاہتے تھے ۔
وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت تخریب کاروں کے حملہ کی رفتار سے پریشان دکھائی دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ بغداد پر قبضہ کی کوشش سے قبل عسکریت پسندوں نے جاریہ سال کے اوائل میں فلوجہ پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مغربی ممالک کیلئے تخریب کاروں کے یہ حملے کافی مہینگے ثابت ہو رہے ہیں جو یہاں بھاری رقومات خرچ کر رہی تھیں اور انہیں شدید جانی نقصانات کا بھی سامنا ہے ۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ان کا ملک بغداد کو فوجی مدد فراہم کرنے بشمول ڈرون طیارے فراہم کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ یہاں بھی بغیر پائلٹ کے نگران کار طیاروں کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں جو افغانستان ‘ پاکستان اور یمن میں استعمال کئے جاتے ہیں۔