بریگزٹ مسئلہ پر امریکہ اور یوروپی یونین میں اختلافات

لندن ۔ 14 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتشار کن ڈپلومیسی کی بدولت برطانیہ کی یوروپی یونین سے علحدگی کے بعد اُس کو متوقع تجارتی فوائد حاصل ہوں گے ، اُس کی اس اُمیدوں پر پانی پھرگیا۔ وزیراعظم تھریسا مے کو توقع تھی کہ اس ہفتہ ٹرمپ کے متوقع دورہ برطانیہ کے موقع پر اس مسئلہ کو وہ ٹرمپ کے سامنے پیش کریں گی ، لیکن ’’ سن نیوز ‘‘ کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے برطانیہ کی علحدگی کی تائید کرنے کے بجائے اس پر تنقید کی جس کے باعث برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں سخت مایوسی پیدا ہوگئی ۔ ٹرمپ نے برطانیہ کے مستعفی وزیر خارجہ بوریس جانسن جو برطانیہ کے یوروپین یونین سے علحدگی کے مخالف تھے کی تعریف کی ۔ جانسن پہلے بریگزٹ کے روح رواں تھے اور جون 2016 ء ریفرنڈم کیش روعات میں آگے آگے تھے لیکن بعد ازاں انھوں نے اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا کہ برطانیہ یوروپین کے ساتھ رہتے ہوئے ہی اپنے مکمل فوائد حاصل کرسکتا ہے اور اپنے اس موقف کے ساتھ وہ دوسرے ممالک بشمول امریکہ کے ساتھ اپنے نئے تجارتی تعلقات کی وکالت کی ہے ۔ جاریہ ہفتہ حکومت کی جانب سے وائیٹ پیپر جاری کیا گیا جس میں تھریسا مے نے اُمید ظاہر کی تھی کہ یوروپین یونین کے ساتھ ایک نئے معاہدہ کے تحت آئرلینڈ اور جنوبی آئرلینڈ کے ساتھ اپنی سرحدکو ازسرنو مستحکم کیا جائے گا لیکن ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں ظاہر کیا کہ تھریسا مے کا خواب کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ بھی یوروپین یونین کے مساویہ رتبہ حاصل کرلے گی محض ’’نابود ہوچکا ہے ‘‘ اور اب امریکہ کے ساتھ ایک نیا تجارتی معاہدہ پیش نظر ہے لیکن دونوں قائدین نے ٹرمپ کے آتشی زبان کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ وہ مابعد بریگزٹ منصوبوں کو جاری رکھیں گے ۔ تھریسامے نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ بروسلز اور امریکہ دونوں سے دوستانہ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا ۔