برڈ فلو جراثیم کا مقابلہ کرنے سے انسانی قوت مدافعت قاصر

چکن کھانے سے ہی نہیں متاثرہ پولٹری علاقے میں پھیلی وباء کا بھی اثر

حیدرآباد /17 اپریل ( سیاست نیوز ) برڈ فلو کے جراثیم کا دفاع کرنے کی قوت انسانی دفاعی نظام میں موجود نہیں ہے۔ HSN1 وائرس انتہائی مہلک ہے اور یہ صرف متاثرہ چکن کے استعمال سے ہی نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ چکن کے اطراف و اکناف بھی بذریعہ ہوا یہ وباء پھیلتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وباء صرف چکن سے پھیلتی ہے اور اس وباء سے بچنے کا واحد راستہ مرغ کا استعمال ترک کرنا ہے اور متاثرہ مرغ کے قریب جانے سے بھی گریز کرنا ہے ۔ حیدرآباد کے نواحی علاقہ حیات نگر میں تقریباً 2 لاکھ مرغیوں و انڈوں کو تلف کرنے کی صورتحال کے بعد آج چکن کے مارکٹ میں کچھ گراوٹ آئی ہے ۔ برڈ فلو کی ابتدائی علامات میں شدید سردرد ،آشوب چشم ، کھانسی ، گلے میں خراش ، تیز بخار اور اعضاء شکنی شامل ہے ۔ اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کا بروقت علاج انتہائی ضروری ہے اور یہ ایک وبائی مرض ہے جو ایک دوسرے کو پھیلتا رہتا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے شہر کے نواحی علاقوں میں 5 مثبت نمونوں کے دستیاب ہوتے ہی جو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دو لاکھ مرغیوں کو تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ وقت کی اہم ضرورت تھا ۔ اس اقدام کے ذریعہ حکومت نے شہریوں کو مسئلہ کی سنگینی سے واقف کروایا ہے اس کے باوجود بھی اگر کوئی چکن کا استعمال کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسانی دفاعی نظام میں موجود و صلاحیتوں میں اس وائرس سے بچنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی صفت و طاقت نہیں پائی جاتی ۔ اسی لئے اس فلو یعنی بخار سے جتنا ممکن ہوسکے احتیاط کرنا ضروری ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے بموجب HSN1 وائرس سے متاثر پرندے اگر گھومیں اور یہ وائرس بذریعہ فضاء بھی سانس کے ذریعہ داخل ہوجائے تو بیماری لاحق ہوسکتی ہے ۔ اس بیماری کے ابتدائی اثرات کھانسی ، بخار ، گلے میں خراش ، اعضا شکنی و آشوب چشم کے بعد اس کا ا ثر انسان کے اعضائے رئیسہ پر ہونے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجہ میں پھیپھڑوں کو نقصان کا خدشہ ہے ۔ اسی طرح یہ برڈ فلو گردوں کے ناکارہ ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ اس کے اثرات تیزی سے جسم میں پھیل جائیں تو اعضائے رئیسہ کے ناکارہ ہوجانے کے سبب موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔