برقی سربراہی کے تعلق سے قانون سازی موجود : ڈی سرینواس
حیدرآباد /20 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے قائد اپوزیشن ڈی سرینواس نے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے برقی معاہدوں کی منسوخی کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے بل میں برقی سربراہی کے معاملے میں قانون سازی ہوچکی ہے، جس میں دس سال تک برقی سربراہی کو جوں کا توں رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے، اس کے باوجود مسٹر نائیڈو کی جانب سے برقی معاہدوں کی منسوخی کا مطالبہ علاقہ تلنگانہ سے ناانصافی کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کا مطالبہ یکطرفہ اور جانبدارانہ ہے۔ نئی تشکیل دی گئی تلنگانہ ریاست میں برقی کی قلت ہے، جس سے چیف منسٹر آندھرا پردیش اچھی طرح واقف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برقی معاہدوں کی منسوخی سے تلنگانہ ریاست 460 میگاواٹ برقی سے محروم ہو جائے گی، لہذا اس طرح کا مطالبہ نامناسب ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ تقسیم بل کا جائزہ لے کر تلنگانہ کے ساتھ انصاف کرے۔ علاوہ ازیں تلنگانہ میں برقی قلت پر قابو پانے کے لئے نئے پاور پراجکٹس منظور کرے۔