برطانیہ میں 5 مسلم زیر انتظام اسکولس کے خلاف تحقیقات

لندن۔ 15؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں امکان ہے کہ 5 مسلم زیر انتظام اسکولس کے خلاف انتہاپسندی کی تعلیم دینے کے شبہ میں تحقیقات کے آغاز پر مسلم غالب آبادی والے علاقوں بریڈفورڈ، لوٹن اور مشرقی لندن کے مضافاتی علاقہ ٹاور بورو سے مسلمانوں کی جوابی کارروائی کا اندیشہ ہے۔ ویسٹ مڈلینڈس پولیس، برمنگھم کی سٹی کونسل اور محکمہ تعلیمات نے حال ہی میں کئی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کئے تھے، کیونکہ ’آپریشن ٹروجن ہارس‘ کے سلسلہ میں کئی تحقیقات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ مسلم زیر انتظام اسکولس کے نصاب تعلیم میں انتہاپسند اسلامی نظریات شامل ہیں۔ امریکی اسکولس کی انسپکٹریٹ نے بنیاد پرست اسلامی تعلیمات کے بارے میں برمنگھم کے اسکولس کے معائنے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ان اسکولس کو قومیائے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

برمنگھم میں مسلمانوں کی آبادی جملہ آبادی کی 22 فیصد ہے۔ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے ایک بار پھر کہا کہ برطانوی اقدار کی تعلیم اسکولس میں دی جانی چاہئے اور مرکزی موضوع تاریخ کی نصابی کتابوں میں ’میگناکارٹا چارٹر‘ ہونا چاہئے۔ 2015ء میں میگنا کارٹا کے منشور پر شاہ برطانیہ جان کی دستخط کے 800 سال مکمل ہوجائیں گے۔ یہ دستاویز شاہ برطانیہ کی دستخط کے بعد قانون قرار دی گئی تھی۔ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انھیں میگنا کارٹا پر دستخط کی سالگرہ کے موقع پر تمام اسکولس کے نصاب میں اس کی تعلیم شامل ہونی چاہئے۔ دریں اثناء مسلم غالب آباد والے علاقوں میں مسلم زیر انتظام اسکولس پر انتہا پسند اسلامی نظریات کی تعلیم کے الزام پر شدید برہمی پھیلی ہوئی ہے۔ روزنامہ ’سنڈے ٹائمس‘ اور روزنامہ ’دی میل‘ کے بموجب اگر تحقیقات جاری رہیں تو مسلمانوں کی جوابی کارروائیوں کا اندیشہ ہے۔