برطانوی اسکولوں کو طلبہ کی انتہا پسندی پر نگرانی کی ہدایت

لندن۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ جنوب مشرقی انگلستان کے ایک صوبہ کے اسکولس کو مقامی عہدیداروں نے ہدایت دی ہے کہ اگر مشتبہ طلبہ میں انتہا پسندوں کے اثر و رسوخ کے زیر اثر آنے کا اندازہ ہوجائے تو پولیس کو اطلاع دیں۔ مہلک دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کا طلبہ پر اثر و رسوخ قائم ہونے کا اندیشہ ہے۔ مقامی کونسل برائے بکنگھم شائر نے 6 سے زیادہ نوجوانوں کے صوبہ کے علاقہ ہائی وائی کومب سے لاپتہ ہوجانے کے بعد جن کے بارے میں اندیشہ ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کے لئے شام منتقل ہوچکے ہیں، یہ اقدام کیا۔ روزنامہ ’سنڈے ٹائمس‘ کی خبر کے بموجب ایک مکتوب ریاست کے 230 اسکولس کو روانہ کیا گیا ہے جس کا عنوان ’دہشت گردی کے خطرے کی سطح میں اضافہ پر مشورہ‘ ہے، 19 ستمبر کو صوبائی کونسل نے روانہ کیا ہے۔ حکومت نے چند روز قبل ہی دہشت گردی کا خطرہ ٹھوس سے شدید ہوجانے کا انتباہ جاری کیا تھا۔ مکتوب میں اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ انسداد دہشت گردی ہاٹ لائن یا 999 پر اطلاع دیں۔ اگر انھیں مشتبہ بیاگس، رویہ یا گاڑیاں نظر آئیں،

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو نوجوانوں یا ان کے دوستوں یا ان کے ارکان خاندان کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ خانۂ جنگی (شام اور عراق کی) میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہونے والے ہیں یا دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے والے ہیں تو پولیس عہدیدار کو جو طلایہ گردی پر ہو، اطلاع دیں یا ٹیلی فون پر اطلاع فراہم کریں۔ ٹاور ہیملیٹس کونسل مشرقی لندن والدین اور اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ نوجوانوں کے تحفظ بشمول فسطائی یا انتہا پسند رویے کے بارے میں اندیشوں کی اطلاع دیں۔ ہائی وائی کومب سے 8 افراد سمجھا جاتا ہے کہ شام منتقل ہوچکے ہیں تاکہ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لے سکیں۔ مکتوب وصول ہونے کے بعد 6 پرائمری اسکولس کے صدور نے مخالف مغرب جذبات کے طلبہ کی جانب سے اظہار کی پولیس کو اطلاع دی۔