بردوان دھماکہ : این آئی اے کی مختلف مقامات پر تلاشی مہم

نئی دہلی 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی تحقیقاتی ایجنسی نے مغربی بنگال پولیس کے ساتھ مل کر ریاست میں آج کئی مقامات پر دھاوے کئے اور تلاشی لی ۔ یہ کارروائی بردوان میں 2 اکٹوبر کو ہوئے بم دھماکہ کے سلسلہ میں کی گئی ہے ۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ اس دھماکہ میں کچھ دہشت گرد گروپس کا ہاتھ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی اور مغربی بنگال سی آئی ڈی نے کئی مقامات پر تلاشی لی جن میں دھماکہ میں فوت شکیل کی کرایہ کی قیامگاہ بلڈانگا مرشد آباد بھی شامل ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس تلاشی مہم کے دوران کچھ دستاویزات اور عصری دھماکو مادہ تیار کرنے میں معاون کچھ دھاتی اشیا بھی ضبط کی گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بردوان میں ایک مدرسہ کی بھی تفصیلی تلاشی لی گئی ہے جس کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ ملزمین کو اسی مدرسہ میں جہادی نظریات کی تعلیم دی گئی تھی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ این آئی اے نے جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے سی آئی ڈی مغربی بنگال کے تعاون سے پوچھ تاچھ جاری رکھی ہے

اور ابتدائی تحقیقات کے بعد چینائی سے بھی تین افراد کو این آئی اے نے پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے ۔ ایک سرکاری بیان میں یہ بات بتائی گئی ۔ مغڑبی بنگال سی آئی ڈی ‘ این آئی اے اور سنٹرل انٹلی جنس ایجنسیوں کی ایک ٹیم اس کیس میں اب تک گرفتار تین افراد بدر العالم ملا اور دو خؤاتین رضیہ اور امینہ سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے ۔ یہ کیس بردوان میں کھگرا گڑھ میں ایک کرایہ کے مکان میں ہوئے دھماکہ سے متعلق ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ اس دھماکہ میں حرکت المجاہدین بنگلہ دیش کے دو ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس معاملہ کی تحقیقات این آئی اے کی کولکتہ برانچ کو سونپ دی گئی ہے اور اس نے جمعہ کو ہی اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال حکومت کی اجازت کے بغیر یہ مقدمہ این آئی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ مرکز کو اس قانون کے تحت گنجائش ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر تحقیقات کا ذمہ این آئی اے کو سونپے ۔ کہا گیا ہے کہ چونکہ اس کیس میں کچھ بنگلہ دیشی افراد کا رول ہوسکتا ہے اس لئے اس کے بین الاقوامی رابطوں کو دیکھتے ہوئے اس مقدمہ کی تحقیقات این آئی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔