الہ آباد 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے یوپی میں خواتین کے خلاف جرائم میں اچانک اضافہ کا سخت نوٹ لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ بدایوں عصمت ریزی اور قتل معاملہ کی تحقیقات کی نگرانی کرے اور تفصیلات سے آگہی کے لئے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ میں تحقیقات کی تفصیلی رپورٹ اور ساتھ ہی ساتھ اسی نوعیت کے دیگر جرائم جن کی گزشتہ چھ ماہ کے دوران شکایتیں درج ہوئی ہیں،کی رپورٹس بھی عدالت کو پیش کریں۔
علاوہ ازیں عدالت نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ عصمت ریزی کا شکار لڑکیوں کے ارکان خاندان کو سکیوریٹی فراہم کی جائے۔ جسٹس ترون اگروالا اور رام سورت رام موریہ پر مشتمل ایک خصوصی ڈیویژن بنچ نے استری مکتی سنگھٹن کی جانب سے مفاد عامہ کے لئے داخل کردہ ایک درخواست پر یہ فیصلہ کیا ہے جہاں عدالت سے خواہش کی گئی تھی کہ وہ ریاستی حکام کو ہدایت کرے کہ بدایوں اجتماعی عصمت ریزی کی انتہائی سختی کے ساتھ جانچ پڑتال کی جائے اور خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ عدالت نے اس معاملہ کی سماعت کے لئے آئندہ تاریخ 3 جولائی مقرر کی ہے اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو تحقیقاتی رپورٹ کے ادخال کی ہدایت کی۔ عصمت ریزی کا شکار لڑکیوں کے ارکان خاندان کے لئے سکیوریٹی اور اندرون چھ ماہ عصمت ریزی کے جن واقعات کی پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہے، اُن کی تفصیلات بھی عدالت کو پیش کی جائیں۔ 14 اور 15 سال کی عمر کی دو لڑکیاں جو آپس میں رشتہ دار تھیں، اُن کی اجتماعی عصمت ریزی کے بعد خاطیوں نے اُنھیں قتل کرکے اُن کی نعش درخت سے لٹکادی تھی۔ 27 مئی کو دونوں لڑکیاں بدایوں کے موضع اوشیت سے لاپتہ ہوگئی تھیں۔