ڈین پاسار (انڈونیشیاء)۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ایک امریکی نوجوان لڑکی نے جس پر اپنی والدہ کو ہلاک کرنے کا الزام ہے جس کی نعش جزیرہ بالی میں ایک سوٹ کیس میں پائی گئی تھی اور انکشاف ہوا تھا کہ یہ خاتون حاملہ تھی، دعویٰ کیا ہے کہ اس پر قید میں حملہ کیا گیا۔ اس کے وکیل نے کہا کہ 19 سالہ ہیتھر میک نے اپنی والدہ کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے انڈونیشیاء کے سیاحتی جزیرہ کی پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسے غذا اور پانی سے محروم رکھ کر دھمکیاں دے رہے تھے۔ امریکی قانون داں مائیکل ایلکن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بالی کی پولیس نے اس دعویٰ کو مسترد کردیا ہے اور پُرزور انداز میں کہہ رہے ہیں کہ تمام قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ 62 سالہ شیلا وان ویز میک کی نیم برہنہ نعش جو خون میں لت پت تھی، ایک سوٹ کیس سے برآمد ہوئی تھی جو ایک کھڑی ہوئی ٹیکسی میں رکھا ہوا تھا۔