باغی امیدواروں سے تمام بڑی جماعتوں کیلئے مسائل

حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) مجوزہ عام انتخابات میں بڑی تعداد میں باغی امیدواروں نے اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کرتے ہوئے بڑی پارٹیوں کیلئے مسائل میں اضافہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی اور ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے تقریباً 87باغی امیدواروں نے 56 اسمبلی حلقوں میں پارٹی امیدواروں کے خلاف پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ کل پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی جبکہ 30اپریل کو رائے دہی مقرر ہے۔ تلنگانہ کے 119اسمبلی حلقوں کے ریٹرننگ آفیسرس کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کانگریس پارٹی میں سب سے زیادہ باغی امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کی۔ 15اسمبلی حلقوں میں کانگریس کے 33باغی امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 22اسمبلی حلقوں میں تلگودیشم کے 30باغی امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ 13اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کے 14 اور 10اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کے 10باغی امیدواروں نے پارٹی امیدواروں کے خلاف پرچہ داخل کیا۔ مریال گوڑہ، ملکاجگیری اور میڑچل اسمبلی حلقوں میں ہر پارٹی کے 3باغی امیدوار میدان میں ہیں۔ مریال گوڑہ میں کانگریس، ملکاجگیری اور میڑچل میں تلگودیشم کے باغی امیدواروں نے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے۔

حضورآباد، پداپلی، مشیرآباد، کورٹلہ، اسٹیشن گھن پور اور نارائن پیٹ اسمبلی حلقوں میں کانگریس کے دو، دو باغی امیدوار میدان میں ہیں جبکہ ایل بی نگر، خیریت آباد، سکندرآباد، پناپاکا، نکریکل اور شاد نگر اسمبلی حلقوں میں تلگودیشم کے دو، دو باغی امیدوار ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انتخابی مفاہمت کے سبب تلگودیشم نے جو 8اسمبلی حلقے بی جے پی کو الاٹ کئے ان میں تلگودیشم کے باغی امیدواروں نے ان نشستوں کو بی جے پی کو الاٹ کئے جانے کے خلاف بطور احتجاج پرچہ نامزدگی داخل کیا جبکہ سات اسمبلی حلقوں میں تلگودیشم کے خلاف بی جے پی امیدواروں نے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی انتخابی مفاہمت کی برقراری پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین اپنے باغی امیدواروں کو دستبرداری کرانے کی مہم پر ہیں۔ 10اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کو باغی امیدواروں کا سامنا ہے۔