بارک اوباما کے داعش سے جنگ کے اختیارات طلب

یہ کہتے ہوئے کہ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے وقت لگے گا، صدر امریکہ بارک اوباما نے امریکی کانگریس سے تین سال تک دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے جنگی اختیارات طلب کئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپس دفاعی موقف میں آگیا ہے اور اس کی شکست یقینی ہے لیکن اس کے لئے وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار سے زیادہ فضائی حملے اتحادی فوج ان دہشت گردوں پر کرچکی ہے۔ وہ امریکی کانگریس کو مکتوب روانہ کرنے کے بعد وہائٹ ہائوز میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے ا پنے مکتوب میں ارکان مقننہ سے کہا کہ انہیں جنگ کے اختیارات دینے سے پوری دنیا پر ظاہر ہوجائیگا کہ ہم اپنے موقف پر اٹل ہیں اور یہ پوری قوم کا متحدہ موقف ہے کہ جہادی عسکریت پسندوں کو شکست دی جائے جن کا قبضہ اب شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ دولت اسلامیہ عراق اور شام کے عوام اور ان ممالک کے استحکام کے لئے بلکہ وسیع تر مفہوم میں مشرق وسطی کے لئے اور امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مشرق وسطی کی یہ دہشت گرد طاقت پوری دنیا کے لئے خطرے میں تبدیل ہوجائے گی جس میں سرزمین امریکہ بھی شامل ہوگی۔

بعدازاں وہائٹ ہائوز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ عراق میں مقامی فوج جس کا بیشتر حصہ دولت اسلامیہ نے یرغمال بنالیا ہے، جنگ کررہی ہے۔ دولت اسلامیہ قصبہ کوبانی پر قبضہ کرنے کے اپنے مقصد میں ناکام ہوگیا ہے۔ بیشمار جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کا حوصلہ پست ہوگیا ہے۔ انہیں اپنے مقصد میں ناکامی کا احساس ہوگیا ہے۔ اوباما نے کہا کہ دولت اسلامیہ نے کئی افراد بشمول امریکی یرغمالیوں کا بربریت کے ساتھ قتل کیا ہے۔ یہ اس کی مایوسانہ کوشش ہے کہ عوام کے دلوں میں خوف پیدا کیا جائے۔

غالباً اس طرح وہ اپنے نظریہ کو ان پر مسلط کرنا چاہتی ہے کیوں کہ اس کے پاس پریشانی موت اور تباہی کے سوائے ان کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہ ایک دہشت گرد گروپ ہے۔ اوباما نے تین سال کے لئے اختیارات طلب کئے ہیں جو ان کے جانشین صدر کو خودبخود منتقل ہوجائیں گے اور تجدید کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم انہوں نے تجویز پیش کی کہ جغرافیائی حدود جہاں امریکی فوج عسکریت پسندوں کا تعاقب نہیں کرسکتی ذہن میں رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس جامع حکمت عملی کو ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی تائید بھی حاصل ہوجائے تو منظم اور مستقل مہم دولت اسلامیہ کے خلاف عراق اور شام کے تمام اضلاع میں چلائی جائے گی۔ اس میں مقامی زمینی فوج کی مدد اور شام کے اعتدال پسند اپوزیشن کی مدد بھی شامل ہوگی۔