بابو ۔ بی جے پی دوستی میں کھٹاس ؟

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلگو دیشم اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان دوستانہ تعلقات میں دھیرے دھیرے دراڑیں پڑتیں نظر آرہی ہیں ۔ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو صدر تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے بارہا مرکز پر بلراست تنقید کے باوجود ریاست آندھرا پردیش کو مناسب بجٹ مختص نہیں کیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے اس بات کا پتہ چلا کہ بی جے پی ارکان اسمبلی اور ان کی وزراء مرکز کے طرز عمل کے خلاف زبردست احتجاج منظم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ نائیڈو کی کابینہ میں بی جے پی کے ارکان جنہوں نے بابو کی کابینہ میں شمولیت اختیار کی جس میں کے سرینواس اور پی مانیکیہ راؤ نے بی جے پی کے اجلاس میں شرط کی بنیاد پر شرکت کی ۔ جن کا کہنا ہے کہ پارٹی کی قیادت کو پیش نظر رکھتے ہیں نہ کہ تلگو دیشم پارٹی کو ۔ مستقبل قریب میں وہ اپنے احتجاج میں شدت پیدا کریں گے ۔ مسٹر کے سرینواس اور مانیکیہ راؤ جنہوں نے حالیہ دنوں رائلسیما کے خشک زدہ علاقوں کے عوام کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہوئے تلگو دیشم کے ساتھ عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

کیوں کہ تلگو دیشم نے استفسار پر مشتمل ایک مکتوب میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ آخر بی جے پی نے آندھرا پردیش ریاست کے لیے کیا کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اے پی کی ترقی سے متعلق تاحال کوئی موثر انداز میں جواب نہیں دیا ہے ۔ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مرکز نے آندھرا پردیش ریاست کے لیے 24×7 کی بنیاد پر برقی کی سربراہی کے علاوہ ضلع کھمم کے کئی منڈل کا انضمام کرنے کے علاوہ پولاورم پراجکٹ کی منظوری دی ہے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کوئی پارٹی اس طرح کا اقدام کیا تھا ۔ انہوں نے وائی ایس آر کانگریس اور تلگو دیشم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی حکومت آندھرا پردیش ریاست کے ساتھ ہر موقع پر بھر پور حمایت و تائید کا نظریہ رکھتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان پر الزام تراشی کی جارہی ہے ۔۔