بابری مسجد کی شہادت سیکولر ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب

تنظیم آواز گریٹر حیدرآباد کی گول میز کانفرنس، جناب ظہیرالدین علی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔6ڈسمبر(سیاست نیوز) جناب ظہیر الدین علی خان نے بابری مسجد کی شہادت کو سکیولر ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب قراردیتے ہوئے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد گجرات کے ہولناک فسادات متاثرین کے لئے انصاف رسانی کی جدوجہد میں ہندوستان کی سکیولر طاقتوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ آج یہاں شعیب اللہ خان ہال میں تنظیم آواز گریٹر حیدرآباد سٹی کمیٹی کی جانب سے بابری مسجد کی 22ویںبرسی کے موقع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ فرقہ پرستوں نے منظم طریقے سے بابری مسجد کی شہادت اور گجرات فسادات کے ذریعہ قومی اتحاد کوتوڑنے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ فرقہ پرست طاقتیں مذہب اور ذات پات کے نام پر غریب طبقے کو بانٹ کر اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے میں بڑی حد تک کامیا ب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتوں نے مذہب کے نام پر غریب طبقات کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے غریب طبقے کو ہی ایک دوسرے کے مدمقابل کیا اور اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی۔جناب ظہیر الدین علی خان نے قومی سالمیت اور سکیولرازم کی بقاء کے لئے دلت مسلم اتحاد کووقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دلت ہوں یا پھر مسلمان دونوں ہی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کاشکار ہیں۔ انہوں نے جیوتی رائو پھولے اور ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کے نظریات کو اس موقع پر سلام پیش کیا۔ مذکورہ دونوں قائدین نے اپنی قوم اور طبقے کے علاوہ ہندوستان کے دیگر اقلیتوں کے لئے بالخصوص مسلمانوں کے لئے بھی نئی سوچ وفکر کے راستے فراہم کئے ۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ اپنی اجارہ داری کی برقراری کے لئے مذہب اور ذات پات کے نام پر ایک دوسرے کو دست گریبان کرنا مفاد پرست سیاسی قائدین کا شیوہ بنا ہوا ہے۔انہوں نے مذہب اور ذات پات کے نام پر قوموں کو بانٹنے والوں کے خلاف منظم اور متحد جدوجہد کو وقت کی اہم ضرور ت قراردیا۔امن منچ اور عام آدمی پارٹی لیڈر جسوین جیرات نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذہب اور ذات پات کے نام پر ملک کے غریب طبقے کو بانٹنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کوضروری قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پر بھوک پیاس اور سر چھپانے کے لئے چھت سے محرومی غریب طبقے کی پریشانی کاسبب بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف ذات پات او رمذہب سیاست کے ذریعہ مفاد پرست قائدین غریب طبقے کے جذبات کو مشتعل کرنے کاکام کررہے ہیں تاکہ اصل مسائل سے توجہہ ہٹاکر اپنے سیاسی مفادات کو آسانی کے ساتھ پورا کیا جاسکے۔ مسٹر نرا ہری سینئر کمیونسٹ قائد نے بابری مسجد کی شہادت کوہندوستان کی جمہوری تاریخ کا سب سے بدترین واقعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ اس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہار ائو کو امن پسند اور سکیولر ذہن کے حامل قائدین نے بابری مسجد کے انہدام سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ تھا کہ اگر وہ مناسب سمجھتے ہیںتو ہم راست بابری مسجد کے مقام پر پہنچ کر مسجد کی حفاظت کو یقینی بنانے کاکام کریں گے مگر پی وی نرسمہا رائو نے لاء اینڈ آرڈر اور ریاستی انتظامیہ کے نام پرامن پسند سیاسی قائدین کی تجویز کو مستر د کرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کرنے کا فرقہ پرستوں کو موقع فراہم کیا۔انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک کی ایک اور تقسیم کے منصوبے پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی برسراقتدار ریاستوں میں آبادی کے تناسب میںبہترین موقف رکھنے والے مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا انصاف نہیںکیا جارہا ہے۔ایس ایف آئی اور سی پی آئی ایم کی دیگر محاذی تنظیموں کے قائدین نے بھی اس کانفرنس میںشرکت کے ذریعہ بابری مسجد سانحہ پر گہری تشویش ظاہر کی۔کانفرنس کی کارروائی تنظیم آواز گریٹرحیدرآباد سٹی کمیٹی کے صدرسید جمال نے چلائی۔