بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے کم خرچ میں زیادہ پیداوار

فصل کا حصول یقینی، عثمانیہ یونیورسٹی میں راونڈ ٹیبل مباحث، سرکردہ سائنسدانوں کی رائے
حیدرآباد ۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) سوشیل کازکے زیراہتمام آئی سی ایس ایس آر کانفرنس ہال جنرل لائبریری بلڈنگ عثمانیہ یونیورسٹی میں آج ’’طبعی غذاؤں کو تبدیل کرنا ۔ ترقی یا نقصاندہ‘‘ راونڈ ٹیبل مباحث کا انعقاد عمل میں آیا صدارت ڈائرکٹر انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی آچاریہ این جی رنگا اگریکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر پی آنند کمار نے کی۔ اس موقع پر پرنسپل سائنٹسٹ اینڈ ہیڈ آل انڈیا کوآرڈینیٹر ریسرچ پروجیکٹ آن بیالوجیکل کنٹرول آف کراپ پیٹس اینڈ ویڈس آچاریہ این جی رنگا اگریکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر ایس جے رحمن، سینئر ڈپٹی ڈائرکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف نیوٹریشن گروپ لیڈر پی سی ٹی ۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ٹاکسی کالوجی ریسرچ سنٹرو صدر انڈین فارما کالوجیکل سوسائٹی ڈاکٹر بی دنیش کمار، ایگزیکیٹیو ڈائرکٹر سنٹر فار سسٹین ایبل اگریکلچر ڈاکٹر جی وی رامانجنیلو نے بحیثیت مہمانان خصوصی مخاطب کرتے ہوئے طبعی غذاؤں کو تبدیل کرنے پر ترقی ہوگی یا نقصان اور طبعی غذاؤں کی تبدیلی سے حاصل ہونے والی فصلوں کے استعمال سے انسانی جسم پر ہونے والے اثرات سے متعلق شکوک و شبہات اور طبعی غذاؤں کی تبدیلی سے حاصل ہونے والی غذا کے استعمال سے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے مضر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ’’جنیٹک موڈیفائیڈ فوڈس‘‘ فصلوں کا آغاز سب سے پہلے سال 1995ء میں امریکہ سے ہوا اور جبکہ ’’جنیٹک موڈیفائیڈ فوڈس‘‘ طرز پر اس وقت دنیا کے 28 ممالک میں 12 اقسام کی فصلوں کی پیداوار کی جارہی ہے اور ملک میں اس قسم کی پیداوار کا بی ٹی کاٹن پیداوار کا سال 2002ء میں آغاز کیا گیا۔ بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے کم خرچ میں زیادہ مقدار میں فصل کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ چیرپرسن سوشیل کاز شریمتی سوماراجو سوشیلا نے شکریہ ادا کیا جبکہ وائس چیرپرسن سوشیل کاز مسٹر سری ہری ریڈی نے استقبال کیا۔