اے پی ریزیڈنشیل انگلش میڈیم اسکول میں سیاست کی جانب سے دینی تعلیم کا انتظام

مسلم طلبہ کو اخلاقیات کی تعلیم دینے عالم دین کی خدمات کا حصول ، حافظ و قاری رئیس احمد ندوی سے غیر مسلم طلباء بھی متاثر
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : بچوں کے لیے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری ہے کیوں کہ جو انسان اپنے مذہب سے قریب ہوتا ہے اس میں اچھے برے حلال و حرام ، نیکی بدی کی تمیز بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس ایسے لوگ جو مذہب اور مذہبی تعلیمات سے جڑے نہیں رہتے ان میں یہ خوبیاں ہرگز نہیں پائی جاتی ۔ ہماری ریاست میں بے شمار سرکاری اقامتی اسکول اور کالجس ہیں ان میں مسلم لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔ ان طلباء وطالبات کے ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بنیں ۔ دنیا میں ملک و ملت کا نام روشن کریں لیکن اگر ان بچوں کو دینی تعلیم سے محروم رکھا جائے ۔ اخلاقی تعلیم نہ دی جائے تب وہ دنیاوی تعلیم تو حاصل کرلیں گے لیکن اچھے انسان ہرگز ہرگز نہیں بن پائیں گے ۔ سرکاری اقامتی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے دینی و اخلاقی تعلیم کا انتظام نہ رہنے پر حرکت میں آتے ہوئے سیاست ملت فنڈ نے اس طرح کے اسکولوں میں اخلاقیات کی تعلیم کے لیے علماء کو مقرر کرنے کا آغاز کیا ۔ چنانچہ فی الوقت اے پی ریزیڈنشیل اسکول انگلش میڈیم بالاجی نگر حیدرآباد میں ملت فنڈ کے ذریعہ ادارہ سیاست نے طلبہ کو دینی و اخلاقی تعلیم فراہم کرنے کے لیے حافظ و قاری مولانا رئیس احمد ندوی کو مقرر کیا ۔ واضح رہے کہ اس سرکاری اقامتی اسکول میں جملہ 300 طلبہ ہیں جن میں مسلم طلبہ کی تعداد تقریبا 200 ہے ۔ 2012 تک وہ جمعہ کی نماز بھی ادا نہیں کرسکتے تھے لیکن اب وہ باقاعدہ نماز جمعہ بھی ادا کررہے ہیں ۔ حافظ و قاری مولانا رئیس احمد ندوی صرف مسلم طلبہ کو ہی دینی تعلیم فراہم نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ ہندو طلباء کو بھگوت گیتا بھی پڑھاتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے بتایا کہ انہوں نے بھگوت گیتا کا مطالعہ کاکناڈا کے جناب عبدالغفار کی نگرانی میں کیا ہے ۔ مولانا سال 2012 سے اے پی ریزیڈنشیل اسکول بالا جی نگر حیدرآباد میں ہر جمعہ کو نماز جمعہ سے قبل طلبہ کو قرآن مجید ، سیرت رسول ﷺ ، اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر غیر مسلم طلبہ کو بھگوت گیتا کے ذریعہ اچھائی اور برائی میں تمیز کراتے ہیں ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن مذہب کی بنیادی تعلیم سے محروم رہتے ہیں ۔ ایسے میں معاشرہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کو دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں ورنہ آج کل ایسے بے شمار عبرتناک مناظر دیکھے جارہے ہیں جہاں بچے اپنے والدین کے ایصال ثواب کیلیے منعقدہ قرآن مجید کی محفل میں قرآن مجید پڑھنے کی بجائے مسجد کے باہر بیٹھے رہتے ہیں یا خود کو دوسرے کاموں میں مصروف کرلیتے ہیں ۔ مولانا کے مطابق دینی تعلیم حقیقت میں آدمی کو انسان بناتی ہے ۔ اس میں جذبہ انسانیت ہمدردی صلہ رحمی ، محبت و مروت پیدا کرتی ہے ۔۔