حیدرآباد۔19جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش نان گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن کا ایک وفد سمکیا آندھرا( متحدہ آندھراپردیش) جدوجہد کی تائید حاصل کرنے ماہ فبروری کے پہلے ہفتہ میں دہلی پہنچ کر چیف منسٹر گجرات و وزارت عظمی کے بی جے پی امیدوار مسٹر نریندر مودی سے ملاقات کرے گا ۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر اشوک بابو صدر اسوسی ایشن نے یہ بات کہی اور بتایا کہ مسٹر نریندر مودی سے ملاقات کے موقع پر واقف کروایا جائے گا تاکہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے ہی یو پی اے حکومت آندھراپردیش ریاست کو تقسیم کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے ۔لہذا تقسیم ہونے سے روکنے میں اہم رول ادا کرنے کی پُرزور اپیل کی جائے گی ۔ کیونکہ بی جے پی قائدین ہی اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ تلنگانہ مسودہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے پر اس بل کی بھرپور تائید کی جائیگی ۔ صدر اے پی این جی اوز اسوسی ایشن نے کہاکہ سمکیا آندھراپردیش جدوجہد کے ایک حصہ کے طور پر ہی بہت جلد ’’ چلو پارلیمنٹ‘‘ پروگرام بھی منظم کیا جائے گا ۔
گذشتہ عرصہ کے دوران ’’ آندھراپردیش بچاؤ‘‘ جلسہ عام منعقد کئے وقت جس طرح کے واقعات پیش آئے تھے اسی نوعیت کے واقعات دوبارہ ’’چلو حیدرآباد‘‘ پروگرام کے وقت بھی امکانی طور پر پیش آنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے پُرزور الفاظ میں کہا کہ حملوں وغیرہ سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے ۔ مسٹر اشوگ بابو نے بتایا کہ سمکیا آندھرا ( متحدہ آندھراپردیش) ریاست کے مطالبہ پر 22جنوری کو اندرا پارک کے پاس بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا پروگرام منظم کیا جائے گا ۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے کثیر تعداد میں سیما آندھرا عوام ‘ ملازمین ‘ سیاسی قائدین وغیرہ سے شرکت کی پُرزور اپیل کی ۔