ایڈیشنل جنرل آف پولیس کا طلبہ پر لاٹھی چارج پر اظہار افسوس
علیگڑھ۔10مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) زائد از 15ہزار طلبہ اور ان کے مؤیدین نے ایک ’’ انسانی زنجیر‘‘ تشکیل دی تاکہ ان کے ’’ اتحاد و یگانگت‘‘ کا اظہار کیا جاسکے جو ان پر ’’ رائٹ ونگ‘‘ اور پولیس کے ظالمانہ برتاؤ پر یکجا ہوئے تھے ۔ احتجاجی طلبہ کے تین اہم مطالبات تھے ‘ پہلا یہ کہ پولیس ‘ ان شرارتی اور فسادیوں کو گرفتار کرے جو 2مئی کو یونیورسٹی کیمپس میں زبردستی گھس گئے تھے اور غیر ضروری ہنگامہ برپا کیا تھا ‘دوسرا یہ کہ یونیورسٹی کے نامعلوم طلبہ پر لکھی گئی ایف آئی آر سے دست برداری اختیار کی جائے ‘ تیسرا یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ اسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ اس پورے غیر ضروری اور غیر اخلاقی واقعہ کی جوڈیشیل تحقیقات کروائی جائیں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین سکریٹری فہد نے کہا کہ باوجود تیقن کے ہم اپنا احتجاج اس وقت تک ختم نہ کریں گے ‘ تاکہ ہم زمینی اقدامات بذات خود نہ دیکھ لیں ۔ احتجاجی طلبہ نے چہارشنبہ کو اے ایم یو کی باب سید گیٹ پر یہ امید ظاہر کی کہ ’’ مقامی انتظامیہ ‘‘ ہمارے جائز مطالبات کو پورا کرے گا ۔ یہ بیان اے ایم یو طلبہ یونین کے ایک وفد کی سینئر عہدیداروں بشمول ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اجئے آنند ‘ انسپکٹر جنرل آف پولیس ‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ‘ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس و دیگر عہدیداروں سے چہارشنبہ کو ملاقات کے بعد آیا ہے جنہیں یہ تیقن دیا گیا کہ وہ ہمارے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر کارروائی کریں گے ‘ جس کے نتائج وہ دو تا تین دنوں میں دیکھیں گے ۔ اے ایم یو صدر طلبہ یونین مشکور عثمانی نے آئی اے این ایس سے میٹنگ کے بعد یہ بات بتائی ۔ اے ڈی اجئے آنند نے قبول کیا کہ لاٹھی چارج کا فیصلہ انتہائی غلط تھا جس سے بچا جاسکتا تھا ۔ اے ایم یو ٹیچراسوسی ایشن نے سینئر عہدیداروں سے الگ ملاقات کرتے ہوئے طلبہ کے مطالبات کی تائید کی ۔