نئی دہلی ، 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے مرکز میں نئی حکومت تشکیل دینے کی پیش قیاسی کی گئی ہے کیونکہ آج رات ایگزٹ پولس نے نریندر مودی کی قیادت والے اس گروپ کو 249 اور 290 نشستوں کے درمیان عددی طاقت دی، جو 543 رکنی لوک سبھا میں نصف تعداد کے نشان سے قریب ہے۔ برسراقتدار کانگریس زیر قیادت یو پی اے کو 101 اور 148 نشستوں کے درمیان حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی جبکہ ’دیگر‘ بشمول علاقائی جماعتیں اور بایاں بازو کو 146 اور 156 نشستوں کے درمیان مل سکتی ہیں، یہ اُن پولس کے اعداد و شمار ہے جو آج لوک سبھا چناؤ کے نویں و آخری مرحلے کے اختتام کے بعد ٹی وی چیانلوں پر دکھائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پول جو ٹوڈیز چانکیہ نے نیوز 24 چیانل کیلئے منعقد کیا، اس نے تو این ڈی اے کو 340 نشستیں، یو پی اے کو 70 اور دیگر کو 133 سیٹیں حاصل ہونے کی بات کہی ہے۔ ٹائمز ناؤ پر او آر جی کے منعقدہ پول نے پیش قیاسی کی کہ این ڈی اے 249 نشستیں حاصل کرے گا جبکہ یو پی اے کو 148 اور ’دیگر‘ کو 146 سیٹس ملیں گی۔ سی این این۔ آئی بی این کیلئے سی ایس ڈی ایس کے منعقدہ پول نے این ڈی اے کو 270 اور 282 نشستوں کے درمیان دیئے ہیں جبکہ یو پی اے کو 92 اور 102 سیٹوں کے درمیان حاصل ہونے کی پیش قیاسی ہے۔ بی جے پی کی تنہا طور پر 230 اور 242 حلقوں کے درمیان کامیابی کی پیش قیاسی ہے، جبکہ کانگریس کو اسی پول نے 72 اور 82 کے درمیان سیٹس حاصل ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ ہیڈلائنس ٹوڈے کیلئے آئی ٹی جی۔ سیسرو کے منعقدہ پول نے پیش قیاسی کی کہ این ڈی اے 272 (11 کم یا زیادہ ) کی عددی طاقت حاصل کرے گا، یو پی اے کو 115 (5 کم یا زیادہ) اور ’دیگر‘ کو 156 نشستیں حاصل ہوںگے۔ انڈیا ٹی وی پر سی ووٹر سروے نے این ڈی اے کو 289 ، یو پی اے کو 101 اور دیگر کو 153 نشستیں دیئے ہیں۔ این ڈی اے میں بی جے پی کیلئے 249 اور اس کے حلیفوں کیلئے 40 نشستوںکی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ یو پی اے میں کانگریس کو 78 اور اس کے حلیفوں کو 23 سیٹس ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اے بی پی نیوز۔ نیلسن پول نے این ڈی اے کیلئے 281 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی جبکہ یو پی اے کو 97 نشستیں حاصل ہونے کا اندازہ ہے۔ ’دیگر‘ کو 165 نشستیں حاصل ہونے کی توقع ہے۔ کانگریس کو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ خوش خبری جنوب بالخصوص کیرالا، کرناٹک اور تلنگانہ سے حاصل ہونے والی ہے۔ کیرالا میں 20 نشستوں کے منجملہ کانگریس کی قیادت والا یو ڈی ایف 11 اور 14 کے درمیان جیتنے کی پیش قیاسی ہے جبکہ کرناٹک میں کانگریس کو 28 نشستوں میں سے لگ بھگ نصف حاصل ہوجانے کی توقع ہے۔ ٹاملناڈو میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے کا اچھا مظاہرہ متوقع ہے جیسا کہ ایک سروے نے اسے 39 نشستوں کے منجملہ 31 تک دیئے ہیں۔ مغربی بنگال میں برسراقتدار ترنمول کانگریس کے بھی اچھے مظاہرے کی توقعات ہیں کیونکہ اندازوں کے مطابق اسے 42 نشستوں کے منجملہ 31 تک حاصل ہوسکتے ہیں۔ مختلف پولس نے کہا کہ بی جے پی کلیدی ریاست اتر پردیش میں متاثرکن مظاہرہ پیش کررہی ہے جہاں اس پارٹی کو 80 نشستوں کے منجملہ زائد از 50 حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ او آر جی نے بی جے پی کو یو پی میں 52 نشستیں اور کانگریس کو 10 دیئے ہیں۔ ٹوڈیز چانکیہ نے بی جے پی کو 70 نشستیں، جبکہ سی ایس ڈی ایس نے اس کیلئے 45 تا 53 سیٹس اور سی ووٹر نے اس سب سے بڑی ریاست میں اسے 54 نشستیں دیئے ہیں۔ دیگر کلیدی ریاست بہار میں بھی بی جے پی کے اچھے مظاہرے کی پیش قیاسی ہے جبکہ ایک چیانل نے اسے 40 نشستوں کے منجملہ 28 تک دیئے ہیں۔ دہلی میں جہاں سات نشستیں داؤ پر ہیں، تمام پولس نے بی جے پی کی لگ بھگ کلین سویپ کی پیش قیاسی کی ہے۔ بعض سروے میں عام آدمی پارٹی کو ایک یا دو نشستیں دیئے گئے ہیں۔ مہاراشٹرا جو 48 نشستوں کی حامل ریاست ہے، وہاں سے بی جے پی اور شیوسینا کو زائد از 30 نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی ہوئی ہے۔ بی جے پی توقع ہے کہ پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں بھرپور کامیابی درج کرائے گی۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی دونوں ریاستوں سے 40 کے منجملہ زائد از 35 نشستیں جیتنے کا اندازہ ہے۔ راجستھان میں اسے لگ بھگ تمام 25 سیٹیں ملنے کی پیش قیاسی ہے۔