نئی دہلی /12 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کی محاذی تنظیم دھرم جاگرن سمیتی کی جانب سے ورقیے تقسیم کئے گئے ہیں، جس میں لکھا گیا ہے کہ ایک مسلمان کو ہندو بنانے پر 5 لاکھ روپئے اور ایک عیسائی کو ہندو مذہب قبول کرانے پر 2 لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ دھرم جاگرن سمیتی نے ہندوستان بھر میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سالانہ دو لاکھ افراد کو تبدیلی مذہب کرانے کا نشانہ مقرر کیا ہے (ایک لاکھ مسلمانوں اور ایک لاکھ عیسائیوں کو ہندو بنایا جائے گا اور اس پر فی مسلمان کو 5 لاکھ روپئے اور فی عیسائی کو 2 لاکھ روپئے دیئے جائیں گے)۔ دھرم جاگرن سمیتی نے اس سلسلے میں 25 دسمبر کو ایک بڑا پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی کثیر تعداد کو ہندو بنایا جائے گا۔ ان پمفلٹس پر دھرم جاگرن سمیتی کے لیٹر پیڈ کو بھی شائع کیا گیا ہے۔ پمفلٹس علی گڑھ کے کئی مکانات میں پائے گئے۔ ورقیے میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندوستان میں ایک بڑا ’’مسئلہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان کی عظیم تر ’’گھرواپسی‘‘ کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے کی تجویز ہے۔ اس مکتوب نما ورقیے میں موصول کنندوں کو ’’دوستو‘‘ سے مخاطب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی گھرواپسی کے لئے رقومات کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اب تبدیلی مذہب کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،
اس کے لئے زیادہ سے زیادہ کارندوں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی۔ براہ کرم اس کام کے لئے عطیہ جات فراہم کریں، تاکہ تمام انتظامات بحسن و خوبی انجام دیئے جاسکیں۔ سمیتی کے ایک اہم رکن کاشی ناتھ بنسل سے سوال کیا گیا کہ آخر وہ لوگ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ایک ’’مسئلہ‘‘ کیوں تصور کر رہے ہیں؟۔ انھوں نے کہا کہ کیونکہ عیسائیت بھی ایک مسئلہ ہے اور مسلم بھی ایک مسئلہ ہیں۔ ہر سال ایک مسئلہ پر کام کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم کی ضرورت ہوگی۔
تبدیلی مذہب کے تعلق سے تازہ تنازعہ یہ پیدا ہوا ہے کہ بی جے پی کے ایم پی گورکھپور یوگی آدتیہ ناتھ نے 25 دسمبر کو علی گڑھ کا دورہ کرنے کی توثیق کی ہے۔ اس روز علی گڑھ میں 5000 مسلمانوں اور ایک ہزار عیسائیوں کو مقامی مہیشوری کالج میں ہندو مذہب میں شامل کرلیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ریاستی نظم و نسق اور میڈیا نے بے حد چوکسی اختیار کرلی ہے اور عوام بھی یہ دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں کہ آخر کتنے مسلمان گھر واپسی میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ پروگرام اپنے وقت مقررہ پر منعقد ہوگا اور آدتیہ ناتھ اس میں شرکت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہندو افراد اسلام یا عیسائیت قبول کرتے ہیں تو اس طرح کا کوئی واویلا نہیں مچایا جاتا ہے، اب یہ لوگ ہندوازم میں واپس ہونا چاہتے ہیں تو آخر اتنا شور کیوں ہو رہا ہے؟۔ آگرہ کے مسلمانوں نے ہم کو ایک مکتوب لکھ کر ان کے لئے ایک مندر بنانے کی خواہش کی ہے۔ یہ صورت حال بے قابو اس لئے ہوئی، کیونکہ میڈیا اور نظم و نسق نے مداخلت کی ہے۔ دھرم جاگرن سمیتی اپنے تبدیلی مذہب پروگرام کو وسعت دے گی اور ہر مسلمان کو ہندو بنانے کے لئے فی کس 5 لاکھ روپئے خرچ کرے گی۔