ایک اور شر انگیزی ’بھگود گیتا کو قومی کتاب قرار دیا جائے ‘

نئی دہلی 7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز پر زور دیتے ہوئے کہ بھگود گیتا کو قومی کتاب قرار دیدیا جائے وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہا کہ اس سلسلہ میں اب صرف ایک رسمی کارروائی باقی ہے ۔ اس طرح انہوں نے ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے اور ترنمول کانگریس نے کہا کہ صرف دستور ہی جمہوریت میں ایک مقدس کتاب ہوتی ہے ۔ سشما سوراج نے لال قلعہ میدان پر ’’ گیتا پریرنا مہاتسو ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ اس تقریب میں وشوا ہند پریشد کے صدر اشوک سنگھل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ہندووں کی مقدس کتاب کو قومی کتاب قرار دیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ بحیثیت وزیر خارجہ جو چیلنجس ہوتے ہیں وہ ان سے بھگود گیتا کی تعلیمات کی وجہ سے ہی نمٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب صدر امریکہ بارک اوباما کو اپنے دورہ امریکہ کے موقع پر نریندر مودی نے بھگود گیتا حوالے کی اسی وقت گیتا کو قومی کتاب کا اعزام حاصل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھگود گیتا میں ہی ہر ایک کے مسائل کا حل ہے اور اسی لئے انہوں نے پارلیمنٹ میں ٹہر کر کہا تھا کہ ’’ شریمد بھگود گیتا ‘‘ کو قومی کتاب قرار دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت اقتدار پر آئی ہے اس نے کوئی رسمی اعلان نہیں کیا ہے لیکن انہیں یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم نے جب گیتا امریکہ کے صدر بارک اوباما کو پیش کی تو اسی وقت اس کو قومی کتاب کا اعزاز حاصل ہوگیا ۔ کسی کو ہر دن گیتا کے دو شلوک پڑھنے چاہئیں۔ یہ 700 شلوک پر مبنی کتاب ہے اور اسے ایک سال میں مکمل کیا جاسکتا ہے ۔ اسے پھر پڑھئے اور پڑھتے رہئے ۔ تین تا چار مرتبہ پڑھنے سے آپ کو زندگی گذارنے کا طریقہ سمجھ میں آجائیگا جسطرح سے انہیں ( سشما کو ) آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب لوگ تناؤ کو کم کرنے چاکلیٹس کھاتے اور گولیاں استعمال کرتے ہیں ایسے میں گیتا کا پڑھنا ان کی مدد کرسکتا ہے ۔ دنیاوی حل کارآمد نہیں ہوسکتے ۔