ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا صدر بی جے پی کا تیقن

رام مندر تنازعہ کے آئندہ لائحہ عمل پر آر ایس ایس ، بی جے پی اور ہندو سنتوں کا غور و خوض
احمد آباد ۔ /21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت ، قومی صدر بی جے پی امیت شاہ اور ہندو سنتوں نے آج رام مندر کی ایودھیا میں تعمیر کے تنازعہ پر غور و خوص کیا جبکہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی کی ملکیت کے مقدمہ کا سپریم کورٹ آئندہ جنوری میں فیصلہ کرے گی ۔ بھاگوت اور اجلاس میں شریک ہندو سنتوں نے دو روزہ اچاریہ سبھا میٹنگ میں راجکوٹ میں تبادلہ خیال کیا جو احمد آباد سے 200 گز کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور رام مندر کی تعمیر کے بارے میں مئی 2019 ء سے قبل کی جانی چاہئیے زور دیاکیونکہ نریندر مودی حکومت کی میعاد ختم ہونے والی ہے ۔ اجلاس میں امیت شاہ نے تیقن دیا کہ مندر کی تعمیر ایودھیا میں ہی ہوگی۔ اس تنازعہ پر تفصیلی مباحث کئے گئے۔ ایک راستہ قانونی راستہ ہے ، دوسرا سیاسی قائدین کا طریقہ کار اور تیسرا سنتوں کا رام مندر کی تعمیر پر جلد از جلد عمل آوری کرنے کیلئے زور ہے ۔ آچاریہ سبتاگری مہاراج نے اس اجلاس میں جو جمعہ کے دن اختتام پذیر ہوا شرکت کی اور امید ظاہر کی کہ دو تین ماہ کے اندر کچھ نہ کچھ کیا جائے گا ۔ وہ جودھ پور (راجستھان) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا بی جے پی نے 2019 ء کے عام انتخابات سے پہلے مندر کی تعمیر کا کوئی الٹی میٹم دیا ہے ۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا ۔ امیت شاہ نے تیقن دیا کہ رام مندر ایودھیا میں اسی مقام پر تعمیر کیا جائے گا جو متنازعہ ہے ۔ ایک اور سنت نے صبر و تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ حالانکہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہرممکن کوشش مندر کی تعمیر کیلئے کریں گے لیکن عوام کو صبر و تحمل اختیار کرنا چاہئیے ۔