جھارکھنڈ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ، نئی دہلی میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا مظاہرہ
نئی دہلی 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیاکہ ایوان کو سماجی کارکن سوامی اگنی ویش پر جھارکھنڈ میں حملے کی مذمت کرنی چاہئے اور خاطیوں کو فوری گرفتار کیا جانا چاہئے۔ وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے آر کے رنگا راجن نے الزام عائد کیاکہ جنتا یوا مورچہ، بجرنگ دل اور بی جے پی کے شعبہ طلباء اے بی وی پی کے ارکان نے پاپور میں سوامی اگنی ویش پر حملہ کیا ہے۔ ایوان کو اس واقعہ کی مذمت کرنی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے بھی تشدد اور زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے خاتمہ کا فیصلہ سنایا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگنی ویش نے سماج وادی پارٹی اور وزیراعظم سے مدد طلب کی تھی لیکن کوئی بھی اُن کے بچاؤ کے لئے آگے نہیں آیا۔ اُنھیں مقامی عوام نے بچالیا۔ جھارکھنڈ کے وزیر سی پی سنگھ نے اِس واقعہ کا دفاع کیا اور کہاکہ ایوان کو اِس کی مذمت کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس کے کئی ارکان نے وقفۂ صفر کے دوران اِس مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے دو کانگریسی ارکان نے اپنے بازوؤں پر پٹیاں باندھیں۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے ایک احتجاجی مظاہرہ جھارکھنڈ میں سوامی اگنی ویش پر حملے کے خلاف منظم کیا اور مطالبہ کیاکہ ریاستی حکومت کو برطرف کیا جائے۔ 79 سالہ سماجی کارکن اگنی ویش جبری مزدوری کے خلاف اپنی جدوجہد کے لئے معروف ہیں۔ اُنھیں جھارکھنڈ کے دیہات پاکور میں منگل کے دن ایک ہجوم نے بدگوئی کرنے کے علاوہ چانٹے رسید کئے تھے اور لاتیں ماری تھیں جو سماجی کارکن کے بموجب بی جے پی کے نوجوانوں کے اور طلباء کے شعبہ کے ارکان تھے اور ہندوؤں کے لب و لہجہ میں بات کررہے تھے۔ اگنی ویش پر حملہ دلتوں اور اقلیتوں کے خلاف ملک میں بی جے پی اور اُس کی حلیف جماعتوں کے دور حکومت میں بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف احتجاجی آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی نے کہاکہ سوامی اگنی ویش ناراضگی کی صداؤں کی علامت ہیں۔ اُن پر بھگوا تنظیموں کا حملہ انتہائی مذمت کے قابل ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ جھارکھنڈ حکومت کو اقتدار سے برطرف کردے اور حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ پارٹی قائد تسلیم رحمانی نے کہاکہ ایس ڈی پی ٹی ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان، سوامی اگنی ویش جیسے افراد پر حملوں کے خلاف ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سماج کے پسماندہ طبقات کے عوام کی آوازیں حکومت تک پہونچانے میں اگنی ویش آگے آگے تھے۔ اِس احتجاج کا اہتمام دہلی کی سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کیا تھا اور جلوس کی قیادت نظام الدین خان کررہے تھے۔ احتجاجیوں نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک جلوس نکالا تھا۔ وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تک پہونچے تھے کہ وہاں کے پولیس اسٹیشن کے ارکان عملہ نے جلوسیوں کو روک دیا۔